حیاتِ خالد — Page 687
حیات خالد 676 گلدسته سیرت جب ڈرا کمزور ہو گئے تو خود تو نہ جانے اپنے شکاری دوستوں کو کار توس دے کر شکار منگوا لیا کرتے تھے۔اور اسی طرح جلسہ سالانہ پر جو گھر پر مہمان آتے اُن کو شکار کا گوشت ضرور کھلاتے تھے اور کہتے تھے کہ باہر تو شکار نہیں ملتا۔شکار کھلا کر بہت خوش ہوتے تھے۔اور مہمان بھی بہت خوش ہوتے تھے۔دعا ئیں تو آپ کی اکثر قبول ہوتی تھیں۔جب بھی دوست کہتے کہ مولوی صاحب بارش کی بہت ضرورت ہے ، گرمی بہت ہے، دعا کریں تو آپ دعا کرتے تو بارش ہو جاتی اور لوگوں میں یہ مشہور تھا کہ مولوی صاحب کی دعا سے بارش ہو جاتی ہے۔ایک دن جمعہ پڑھا کر گھر آئے تو کہنے لگے کہ آج میں نے دوستوں کے کہنے پر بارش کے لئے دعا کی ہے۔آج انشاء اللہ ضرور بارش ہوگی۔سخت گرمی تھی۔آپ قمیص اُتار کر بیٹھ گئے بارش کے انتظار میں۔اس وقت چلچلاتی دھوپ تھی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر ایک ٹکڑا بادل کا آیا اور تھوڑی دیر کے بعد موسلا دھار بارش شروع ہوگئی اور جل تقتل ہو گیا۔قبولیت دعا کے بہت سے واقعات ہیں مگر ایک خاص واقعہ لکھتی ہوں۔جب ہم احمد نگر میں تھے تو ہے ایک دفعہ سخت سیلاب آیا اور لوگ اکثر ربوہ آگئے اور ہمیں بھی آدھی رات کو ربوہ آنا پڑا۔سیلاب بڑا سخت تھا۔اگلے روز تو اتنا پانی چڑھ گیا کہ سارے گاؤں کے ڈوبنے کا خطرہ ہو گیا تو مولوی صاحب نے جامعہ کے لڑکوں کو لالیاں کی طرف بھیجا کہ جا کر حکومتی کارندوں کے ذریعہ بند نڑ وادیا جائے تا کہ پانی کچھ اُدھر چلا جائے اور گاؤں بچ جائے۔وہاں لڑ کے گئے تو وہاں فوجی پہرہ دے رہے تھے۔انہوں کہا کہ ہم کسی صورت میں بند نہیں توڑنے دیں گے۔اس پر ہماری بیٹھک میں کچھ احمدی لوگ اسی فکر میں بیٹھے تھے کہ اب کیا کیا جائے تو مولوی صاحب نے سب کو کہا کہ آؤ پھر ہم سب مل کر دعا کریں اللہ تعالیٰ ہی ہماری مشکل حل کرے گا۔چنانچہ سب دوست دعا میں شامل ہو گئے۔ابھی چند منٹ ہی دعا کرتے گزرے تھے کہ بڑی زور سے آواز آئی۔معلوم ہوا کہ ریلوے لائن پانی کے زور سے ٹوٹ گئی ہے اور پانی اترنا شروع ہو گیا ہے۔اس پر سپاہی حیران رہ گئے اور باقی سب لوگ اللہ تعالی کا شکر ادا کر رہے تھے۔اس واقعہ کے بہت لوگ اب بھی گواہ ہوں گے۔بہت سے مکان گر گئے تھے اور لوگوں کے سامان بکھر گئے تھے جس کی حفاظت کے لئے ساری رات مولوی صاحب بندوق لے کر پہرہ دیتے رہے۔حضرت خلیفہ ثالث مرکز سے غیر حاضری پر کئی بار مولوی صاحب کو امیر مقامی بنا کر جاتے تھے۔آپ نے حضرت مصلح موعود کو ایک دفعہ اپنا نیا جبہ پیش کیا اور اُن سے اُن کا مستعمل جبہ لیا جو اکثر جب خاص موقعہ پر تقریر کرنے جاتے تو پہن لیتے تھے۔جب ربوہ کی بنیاد رکھی تھی اور حضور نے اپنے ہاتھ