حیاتِ خالد — Page 686
حیات خالد 675 گلدستۂ سیرت ہمارے گھر آئے کہ دشمن ہمارے گھر کو آگ لگانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔کسی نے کہا کہ تم خیر چاہتے ہو تو فورا یہاں سے چلے جاؤ چنانچہ ہم آپ کے پاس آگئے ہیں۔مولوی صاحب نے کہا یہ اپنا گھر سمجھو۔اپنے بھائی سے کہا کہ یہاں رہو، خرچ کی کوئی فکر نہ کر وسب ضروریات کا میں ذمہ دار ہوں۔اُن کو چوبارہ رہائش کے لئے دیا اور چار ماہ تک اپنے ہاں رکھا۔پھر ایک دن مولوی صاحب نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں آپ کے لئے بہت دعائیں کرتا رہا ہوں۔مجھے خدا نے بتایا ہے کہ تمہارے لئے جرمنی جانا بہتر ہے تم تیاری کرلو۔وہ بہت حیران ہوا کہ سب سے پہلے تو اخراجات کی ضرورت ہے اور پھر بیوی بچوں کو چھوڑ کر جانا ہے۔آپ نے اُسے تسلی دی کہ خدا سب سامان کرے گا تم نہ گھبراؤ۔چنانچہ آپ نے اس کے لئے جس کسی سے قرض مانگا سب نے خوشی سے دے دیا۔اور مولوی صاحب نے سب کے نام اور ادائیگی کی تاریخ وغیرہ بھی نمبر وار لکھ لی۔چنانچہ آپ کا بھائی جرمنی چلا گیا اور وہاں جاتے ہی اُسے کام مل گیا اور ہزار روپیہ ماہوار اپنے بیوی بچوں کو بھیجنے لگ گیا۔اُس کے بعد اپنے چندے اور وصیت وغیرہ بھی ادا کر دی اور پھر قرضہ کی رقم کی ادائیگی کے لیے رقم بھیجنی شروع کر دی۔وہ رقم قرضہ داروں کو وقت سے پہلے مولوی صاحب ادا کرتے رہے۔اس کے بعد ہیں ہزار اور جمع کر لیے اور مکان کے لیے زمین خرید لی۔اس کے بعد اُن کا شاندار مکان بھی بن گیا۔سات سال کے بعد بھائی واپس آیا اور ایک بیٹی کی شادی کی اور اپنے بیٹے کو جرمنی بھیج دیا۔یہ سب اُن کی دلی دعاؤں کا ہی نتیجہ تھا جو ان کو اپنے بھائی سے محبت تھی۔ایک بھائی (عنایت اللہ ) کے ساتھ جو آپ نے محبت کا سلوک کیا وہ یہ ہے کہ اُس کی شادی کی اور پھر کچھ عرصہ اپنے پاس رکھا پھر ان کو علیحد و مکان لے کر دیا اور سب ضرورت کی چیزیں ان کو دیں یعنی برتن ، میز ، کرسیاں ، چار پائیاں اور بستر وغیرہ بھی۔ہمارے پاس اُس وقت دو بھینسیں تھیں ایک بھینس بھی ان کو دے دی تھی۔مولوی صاحب کو اپنی ایک بہن سے بہت زیادہ پیار تھا۔ایک دن اُن کی والدہ مولوی صاحب کو کہنے لگی کہ اب تمہاری بہن جوان ہوگئی ہے۔بتاؤ اُس کی شادی میں تم کیا دو گے؟ اُس وقت ہمارے پاس ایک ہی بھینس تھی۔والدہ سے کہا کہ یہ بھینس ہی اس وقت میرے پاس ہے اگر آپ کہیں تو میں یہ دے دوں گا۔آپ کو شکار کا گوشت بہت پسند تھا اور شکار کرنے کا بھی بہت شوق تھا۔اور آپ کا نشانہ بھی بہت اچھا تھا۔اکثر دوستوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے اور پھر شکار کر کے سب میں تقسیم بھی کر دیتے تھے۔