حیاتِ خالد — Page 603
حیات خالد 598 آخری ایام لیبی زندگی عطافرما۔تمام دنیا کے احمدی مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خود حفاظت فرما۔انہیں اپنی محبت سے نوازتا رہ۔اور سب پر اپنے خاص فضل نازل فرما۔اللهم امين ربوہ ، پاکستان ۱۴ را پریل ۱۹۷۷ء خاکسار طالب دعا ابو العطاء جالندھری (الفرقان اپریل ۱۹۷۷ء صفحه ب ) حياة الى العطاء وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ احباب سے ایک دردمندانہ درخواست دعا انسانی زندگی میں صحت و بیماری کے دور آتے رہتے ہیں صحت کے بے شمار فوائد ہیں اور بیماری کے بھی کچھ فوائد ہیں۔اللہ تعالی نے کوئی چیز بے حکمت پیدا نہیں فرمائی۔میری گزشتہ زندگی میں بیماری کے مختلف دور آئے بعض حوادث بھی پیش آتے رہے۔بظاہر کئی دفعہ ایسا نظر آتا تھا کہ اس حادثہ سے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ابھی خدمت کے کچھ اور مواقع مقدر فرمائے تھے اس لئے ہر بیماری کے بعد صحت اور ہر حادثہ کے بعد عافیت وسلامتی حاصل ہوتی رہی اور یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہے۔الحمد للہ اس کے شکر کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔انسان بہر حال اس دنیا میں محدود عرصہ کے لئے آیا ہے اور یہ زندگی عارضی زندگی ہے لیکن سب کچھ یہی نہیں ہے بلکہ اس زندگی کے بعد ایک دائی اور جاوداں زندگی انسان کو نصیب ہوتی ہے گویا انسان اس زندگی کے بعد معدوم نہیں ہو جاتا بلکہ اس کی نیکیوں اور تقویٰ کے نتیجہ میں اسے وہ لا زوال نعمتیں نصیب ہوتی ہیں جن کا انسان اس دنیا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔قرآن مجید اور احادیث کی رو سے ہر بیماری کا علاج مقرر ہے۔مگر وہ علاج محض ادویہ اور تدبیروں سے حاصل نہیں ہوتا۔خدا کے فضل سے حاصل ہوتا ہے۔خدا کے فضل کو حاصل کرنے کے دو ذریعے ہیں۔ایک تدبیر اور دوسرے دعا۔تدبیر کے ذریعہ انسان اللہ تعالی کے پیدا کردہ اسباب سے