حیاتِ خالد — Page 604
حیات خالد 599 آخری ایام فائدہ اٹھاتا ہے اور دعا کے ذریعہ سے اس کی خاص تقدیر کو اپنے لئے جاری کرنے کی درخواست کرتا ہے۔بیماریوں کی صورت میں بھی یہ دونوں باتیں ضروری ہیں اور انسان کے لئے یہ بنیادی یقین لازمی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج مقرر فرمایا ہے اور شفا اُسی کے ہاتھ میں ہے۔انبیاء اور صلحاء کا تجربہ یہی ہے کہ وہ بیمار ہوتے رہے ہیں اور بیماریوں کے علاج کے لئے بھی ممکن کوشش کرتے رہے ہیں۔مگر ان کا تو کل ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے اور وہ دعاؤں کے ذریعہ سے اس سے صحت اور شفا حاصل کرتے تھے۔میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے جو معمولی کھانسی اور بخار کی قریباً ایک ماہ سے شکایت رہی ہے وہ اب خاص طور پر توجہ کے قابل بن گئی ہے۔دوا اور علاج لازمی ہیں۔اس بارے میں گزشتہ ایام میں بھی بہت سے مخلص احباب نے باہر سے بھی دوائیں بھجوائی ہیں اور ربوہ کے مختلف ڈاکٹروں اور اطباء نے بھی علاج کے لئے تجویزیں پیش کی ہیں۔اس دوران میں افاقہ بھی حاصل ہوتا رہا۔میں ان تمام دوستوں کا ممنون ہوں جنہوں نے میری بیماری کے سلسلہ میں ادویہ کے ذریعہ سے علاج کیا۔پھر اس سے بڑھ کر ان بزرگوں اور بھائیوں کا ممنون ہوں جو مختلف جماعتوں میں اس عاجز خادم سلسلہ کی صحت کے لئے دعا کرتے رہے۔بہت سے احباب بھائیوں اور بہنوں کے خطوط پڑھ کر میں سخت شرمندہ ہوتا رہا ہوں۔ادویہ کے علاوہ اب پھر یہ ضرورت شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے کہ بھائیوں اور بہنوں سے درد مندانہ درخواست دعا کی جائے تا اللہ تعالیٰ کا فضل جلد نازل ہو اور اللہ تعالیٰ کامل صحت عطا فرمائے اور خدمت دین کے لئے صحت کے ساتھ کچھ اور مدت عطا فرمائے۔آمین۔میں امید کرتا ہوں کہ احباب اس تحریر کو کسی پریشانی کا موجب نہ سمجھیں گے بلکہ یہ دعا کی ایک درخواست ہے سب معاملات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور ہم اس کے عاجز بندے ہیں۔وہ بڑے فضل و کرم کرنے والا ہے۔اس وقت کیفیت یہ ہے کہ کھانسی پہلے کی نسبت کم ہے مگر ہلکے بخار کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔اس لئے علاج کی طرف اور دعاؤں کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے اللہ تعالی ہم سب کے ساتھ ہو اور اپنے فضلوں سے سب کو نوازے۔آمین۔میں بالآخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس پیارے جملہ پر جسے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشعراء کے پانچویں رکوع میں نازل فرمایا ہے یعنی وَ إِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِین کہ بیماری میرے قصور کی وجہ سے آئی ہے اور شفا میرے رب کی طرف سے آتی ہے اس درخواست کو ختم کرتا ہوں۔حقیقت یہی ہے