حیاتِ خالد — Page 54
حیات خالد 57 ولادت ، بچپن اور تعلیم ہو گئی تھیں۔ادھر مدرسہ کے ہفتہ واری لیکچروں میں قابل اساتذہ کے مضمون کے نوٹ بھی ہمارے لئے خضر راہ ہوتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ہماری مطالعہ سوسائٹی میں میرے ہم جماعت مولانا تاج الدین صاحب لاکپوری بھی شامل ہوا کرتے تھے اور انہیں خوب نکتے سوجھا کرتے تھے۔میری ابتدائی نوٹ بک کو لے کر ہی پہلے پہل قادیان کے تاجر کتب فخر الدین صاحب نے احمدیہ پاکٹ بک کے نام سے کتاب شائع کی تھی۔دنیا چہ میں اُس کا ذکر بھی تھا۔بہر حال طالب علمی کا ابتدائی آغاز بہت عمدہ تھا اور اللہ تعالی کے فضل سے اسباب بھی اعلیٰ مہیا ہوتے گئے۔وَ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ دوران طالب علمی کا ایک خاص واقعہ حضرت مولانا نے اپنے قلم سے یوں رقم انفلوائنزا کا زمانہ فرمایا: غالباً ۱۹۱۸ء میں انفلوائنزا کی وبا پہلی مرتبہ ہمارے ملک میں پھیلی تھی۔مدرسہ احمدیہ قادیان کے بہت سے طالب علم بھی اس بیماری میں مبتلاء ہو گئے تھے میں بھی ان بیماروں میں شامل تھا۔ہم سب طلبہ کو علاج کی سہولت کے پیش نظر نیز باقی طلبہ سے علیحدہ رکھنے کی غرض سے بورڈنگ کے ایک کنارے ایک کھلے کمرے میں رکھا گیا تھا۔اس بیماری سے بچوں میں بہت ہراس پھیلا ہوا تھا۔اموات کثرت سے ہو رہی تھیں۔ان دنوں مدرسہ احمدیہ و بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ہی جنازے پڑھے جاتے تھے۔محلہ جات میں دن میں کئی کئی آدمی فوت ہوتے ، سب کے جنازے صحن بورڈنگ میں لائے جاتے ، و ہیں نماز جنازہ ہوتی اور پھر سب جنازے قبرستان کو لے جانے کیلئے بورڈنگ کے اس کمرے کے سامنے سے گزرتے جس میں ہم بیا ر طلبہ ہوتے تھے اس سے بھی بچوں میں دہشت پیدا ہوتی تھی۔اس پر ہیڈ ماسٹر صاحب مدرسہ احمدیہ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں رپورٹ کرتے ہوئے درخواست کی کہ جنازے مدرسہ احمدیہ کے محسن کی بجائے قبرستان میں ہوا کریں اور دوسرے راستہ سے لے جائے جایا کریں تاکہ بچوں پر اس کا برا اثر نہ ہو۔چنانچہ یہ فیصلہ ہو گیا اور جنازے صحن مدرسہ میں آنے سے رک گئے۔میں نے اپنی بیماری سے گھبرا کر اپنے والد صاحب کو خط لکھا کہ آپ فوراً ایک ایمان افروز خط قادیان آجائیں زندگی اور موت کا کچھ پتہ نہیں۔بچپن میں پردیس میں بیمار ہونے والا ہر بچہ ضرورت سے زیادہ ہی گھبرا جاتا ہے۔میرے والد صاحب ان دنوں اپنے گاؤں میں