حیاتِ خالد — Page 55
حیات خالد 58 ولادت ، بچپن اور تعلیم برانچ پوسٹ ماسٹر بھی تھے۔یہ کام تو زیادہ نہ تھا مگر اہمیت کے پیش نظر ان دنوں رخصت مشکل سے ملتی تھی۔میرے والد صاحب مرحوم نے میری گھبراہٹ والا خط پڑھ کر ایک طرف تو چھٹی کیلئے درخواست بھیج دی اور دوسری طرف مجھے فوراً خط لکھا کہ میں چھٹی کی کوشش کر رہا ہوں۔چھٹی ملنے پر انشاء اللہ ضرور آ جاؤں گا۔ساتھ ہی لکھا کہ آپ کے خط سے بہت گھبراہٹ کا اظہار ہوتا ہے۔زندگی اور موت تو اللہ تعالی کے اختیار میں ہے۔دعا کرو ہم بھی دعا کرتے ہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔اس خط کا آخری فقرہ یہ تھا کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر راضی با لقضاء رہنے کی شرط کے ساتھ بیعت کی ہوئی ہے۔مجھے اس پیار کے پیش نظر جو حضرت والد صاحب کو مجھ سے تھا یقین کامل تھا کہ میرے خط ملنے کی دیر ہے والد صاحب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قادیان پہنچ جائیں گے۔پھر جس گھبراہٹ کا اظہار بے ساختہ طور پر مجھ سے ہو گیا تھا اس کی وجہ سے بھی مجھے یقین تھا کہ ایک دو دن کے اندر والد صاحب آجائیں گے لیکن جب چوتھے پانچویں دن ان کا مذکورہ بالا خط موصول ہوا تو مجھے بڑا تعجب ہوا اور سے جب میں خط کے آخری فقرہ پر پہنچا تو میرے آنسو جاری ہو گئے اور اپنی نادانی میں میرے منہ - نکل گیا کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں اگر یہاں مر بھی جاؤں تو والد صاحب راضی بالقضاءر ہیں گئے۔حضرت والد صاحب خط کے دوسرے تیسرے دن پہنچ گئے اور میری حالت بھی اچھی ہو رہی تھی مگر ان کے خط کے آخری فقرہ کا مجھے احساس تھا کہ انہوں نے اس موقعہ پر یہ کیا تحریر فرما دیا ینے۔چنانچہ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا۔انہوں نے فرمایا کہ یہ تو حقیقت ہے۔یہی تو وہ ایمان ہے جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے حاصل کیا ہے۔اس وقت اپنے بچپن کی نادانی کی وجہ سے میں اس بات کو پوری طرح نہ سمجھ سکا مگر بعد ازاں مجھے اس چٹان ایسے مضبوط ایمان کی قدر معلوم ہوئی۔میرے والد صاحب مرحوم کی تعلیم مڈل تک تھی مگر۔صحابہ سیح موعود علیہ السلام کا ایمان انہوں نے حضرت سیح موعود علیہ السلام کا مبارک چہرہ دیکھا ہوا تھا اور حضور کے کلمات طیبات اپنے کانوں سے سنے ہوئے تھے۔اس پاکیزہ صحبت کا یہ نتیجہ تھا کہ ان لوگوں کے ایمان چٹان سے زیادہ مضبوط ہوتے تھے اور وہ تن تنہا بھی مخالفت کے سیلاب میں غیر متزلزل رہتے تھے۔انہیں نہ غیروں کی طعن و تشنیع اپنی جگہ سے ہلاتی تھی نہ اپنوں اور بچوں کی محبت ان کے قدم میں لغزش پیدا کرتی تھی۔رضی الله عنهم و رضوا عنه