حیاتِ خالد — Page 53
حیات خالد 56 والا دست انگین اور تعلیم حوصلہ افزائی کا دخل تھا۔اور اس کے بعد تو انہوں نے زور دے کر اور اصرار سے مضامین لکھوائے اور الفضل اور دیگر رسالہ جات میں شائع کئے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمارے سب اساتذہ اور جملہ محسنوں کو جزائے خیر دے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین یا رب العلمین۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۸ صفحه ۴۱ تا ۴۴) مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا نے قریباً چودہ سال کی عمر میں پہلا مضمون لکھا تھا۔مضمون نویسی کا یہ سلسلہ تادم وفات جاری رہا۔آپ کا آخری مضمون آپ کی وفات کے دودن بعد اخبار الفضل ۲ جون ۱۹۷۷ء میں شائع ہوا۔یہ مکرم عبد العزیز ڈار صاحب مرحوم کے اخلاق حسنہ کے بارہ میں تھا۔یہ مضمون آپ نے اپنی وفات سے دو روز قبل اپنی بہومکر مہ قاری شاہد و راشد صاحبہ کو لکھوایا تھا جبکہ آپ بوجہ نقاہت خود مضمون اپنے قلم سے لکھنے سے معذور تھے۔اس طرح حضرت مولانا کی مضمون نویسی کا زمانہ قریباً ۶۰ سال بنتا ہے۔اس عرصہ میں سلطان القلم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اونی خادم نے کس کس رنگ میں قلمی جہاد میں حصہ لیا اس کی تفاصیل انشاء اللہ آئندہ صفحات میں اپنے اپنے موقع پر بیان ہوں گی۔مدرسہ احمدیہ میں علم کی پیاس بجھانے کا انداز کیا تھا؟ اس بارہ میں حضرت زائد مطالعہ کا طریق مولانا کی مثال آج بھی اور ہر دور میں آنے والے طالب علم کیلئے مشعل راہ ہے۔حضرت مولانا لکھتے ہیں:۔میں اپنے زائد مطالعہ کے ذکر پر اس کا ایک نمونہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔مدرسہ احمدیہ کے ہم چند طلبہ نے یہ طریق اختیار کر رکھا تھا کہ مدرسہ کے بعد دو پہر کے کھانے سے فارغ ہو کر ایک علیحدہ کمرہ میں بیٹھ جاتے تھے، بائیکل اور کاپیاں پنسلیں ہمارے پاس ہوتی تھیں، ہم میں سے ایک طالب علم کتاب پڑھتا جاتا تھا باقی غور کرتے اور قابل نوٹ باتیں ایک دوسرے کو بتا کر نوٹس لیا کرتے تھے۔اسی طرح ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو باری باری مل کر پڑھا کرتے تھے اور نوٹ لیا کرتے تھے۔یہ درست ہے کہ بچپن کے اس مطالعہ سے پوری طرح سمجھ تو نہ آتی تھی مگر ایک چاشنی پیدا ہو جاتی تھی اور ا لگن لگ جاتی تھی اور پھر بار بار دہرانے سے عقدے کھلتے جاتے تھے۔ہم نے اس زمانہ میں برا این احمد یہ بھی پڑھی تھی۔زائدہ مطالعہ کا یہ ایک نمونہ ہے۔اس مطالعہ سے ہمارے پاس نوٹ بکیں بھی تیار