حیاتِ خالد — Page 548
حیات خالد 541 متفرق دینی خدمات نیہ ادارہ کامیابی سے ۱۹۵۳ ء تک چلتا رہا۔تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ ۳۸ پر درج ہے۔نئی صورتِ حال کے پیش نظر مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کا مخلوط ادارہ جاری ہوا جس کے پر نیل بھی آپ ( مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری۔ناقل ) ہی مقرر ہوئے اور یکم جولائی ۱۹۵۳ء تک اس ادارہ کو کامیابی سے چلانے کے بعد پرنسپل کی حیثیت سے جامعتہ المبشرین میں منتقل ہو گئے“۔آپ نے قریباً چار سال تک یہ خدمت سرانجام دی۔جولائی ۱۹۵۷ء میں دونوں اداروں یعنی جامعہ احمدیہ اور جامعتہ المبشرین کو پھر متحد کر دیا گیا اور اس ادارے کی سر براہی بطور پرنسپل حضرت میر داؤ د احمد صاحب ابن حضرت سید میر محمد الحق صاحب کے سپرد ہوئی۔جامعہ احمد یہ سات سال تک احمد نگر میں جاری رہنے جامعہ احمدیہ کی احمد نگر سے ربوہ منتقلی کے بعد ۲۲ فروری ۱۹۵۵ء کو ربوہ میں منتقل ہوا۔اس موقع پر احمد نگر کے سربراہ، نمبر دار اور مسلم لیگ احمد نگر کے نائب صدر نے جامعہ کے اساتذہ اور طلباء کے اعزاز میں ایک وسیع پارٹی دی اور ان کے حسن سلوک اور ہمدردانہ رویہ کوسراہا اور سیلا ہوں میں ان کی نا قابل فراموش خدمات کو خراج تحسین ادا کیا۔مکرم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لامکپوری نے احمد نگر کے معززین کا شکریہ ادا کیا اور دین و دنیا کی کامیابی کیلئے دعا کی۔مولانا ابوالعطاء صاحب پرنسپل جامعہ المبشرین قبل ازیں جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے اور آپ ہی کے زیر انتظام فروری ۱۹۴۸ء میں یہ مرکزی ادارہ لاہور سے احمد نگر منتقل ہوا تھا۔مولانا صاحب بھی اس تقریب میں مدعو تھے اور آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ سات سالہ عرصہ میں مقامی باشندوں کے ساتھ ہمارے ایسے گہرے تعلقات رہے ہیں کہ فنانشل کمشنر صاحب پنجاب اور صوبائی وزیر بحالیات جب یہاں تشریف لائے تو وہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۵۶ء صفحه ۲ بحواله تاریخ احمدیت جلد ۱۸ صفحه ۲۹۱) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے کچھ عرصے تک قائمقام وکیل التبشیر کے طور پر کام کیا۔جس کے بعد صدر انجمن احمدیہ کے فیصلے کے مطابق ۱۹۵۷ء کے آخر میں آپ کو تعلیم الاسلام کالج میں بطور لیکچرار دینیات مقرر کر دیا گیا۔حضرت مولانا نے اس ڈیوٹی کو کما حقہ، انجام دیا اور اس کے بعد ۲۵ اگست ۱۹۶۲ ء آپ واپس صدرا مجمن احمدیہ میں آگئے۔دفتری لحاظ سے ۱۶ راگست ۱۹۶۳ء کو ریٹائر ہوئے لیکن خدمت دین کا سلسلہ جاری رہا۔حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری جب قواعد کے مطابق ریٹائر منٹ کی عمر کو تجدید وقف زندگی پہنچے تو آپ نے بعد از ریٹائر منٹ ایک بار پھر اپنے آپ کو وقف کیلئے پیش