حیاتِ خالد — Page 547
حیات خالد 540 متفرق دینی خدمات اور ثانیہ اور ثالثہ کا نتیجہ ۹۸ فی صدی رہا۔پنجاب یونیورسٹی کے مولوی فاضل کے امتحان میں ہمارے صرف چار طلبہ شامل ہوئے اور چاروں پاس ہوئے۔نتیجہ سو فیصدی رہا۔اس امتحان میں مولوی عطاء الرحمن صاحب طاہر یونیورسٹی میں دوم رہے اور مولوی عبد اللطیف صاحب ستکو ہی سوم رہے۔نظارت تعلیم کی ہدایات کے مطابق جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ میں سات عدد علمی مجالس قائم کی گئیں۔ان مجالس نے مضامین فقہ، حدیث، تاریخ، ادب، کلام اور منطق و فلسفہ میں تحقیقی کام شروع کیا۔جسے سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے پسند فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ مجالس کا یہ سٹم ہائی سکول میں بھی قائم کیا جائے۔جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ میں بھی ہائی سکول کی طرح ابتداء میں طلباء کی سخت کمی اور مشکلات کا ہجوم رہا۔لیکن رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم مشکلات پر قابو پائیں۔اس وقت طلباء کی تعداد ۱۵۵ ہے۔ابتداء ۲۰ طلباء سے زائد حاضر نہ تھے۔مزید چونکہ سٹاف کے چار اساتذہ ہجرت کے بعد سلسلے کے نظام کے ماتحت قادیان میں ہی ٹھہرے رہے اور اب تک ٹھہرے ہوئے ہیں اس لئے حضور کے ارشاد کے مطابق دونوں اداروں کو مشترک کر دیا گیا اور پرنسپل صاحب جامعہ (مولوی ابو العطاء صاحب) کو دونوں اداروں کا چارج دے دیا گیا۔احمد نگر میں طلبہ کے انتہاک اور علمی ترقی کو دیکھ کر جناب ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ لالیاں تشریف لائے اور اہل قصبہ کی طرف سے ایک ایڈریس پیش کیا گیا جس میں ہمارے اساتذہ اور طلبہ نے بھی شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر کی سفارش پر جامعہ احمدیہ کو احمد عمر کے قریب ایک مربع زمین الاٹ ہوئی۔جواب بطور گراؤنڈز استعمال کی جارہی ہے۔مجالس علمی میں تو طلبہ اپنے اپنے رحجان کے مطابق شریک ہی ہیں۔لیکن یہ بھی مناسب سمجھا گیا کہ جامعہ کی طرف سے ایک علمی مجلہ بھی شائع کیا جایا کرے۔چنانچہ سہ ماہی المنشور کا اجراء ہو گیا ہے۔بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کا انتظام چوہدری غلام حیدر صاحب کے سپر درہا اور جامعہ احمدیہ کے ہوسٹل کا مولوی ارجمند خاں صاحب کے سپرد۔مولوی ارجمند خاں صاحب کے رخصت پر جانے سے مولوی ظفر محمد صاحب نے ہوسٹل کا کام سنبھال لیا جو وہ بھی تسلی بخش طور پر کر رہے ہیں۔فسادات کے دوران میں بھی اور ہجرت کے بعد کام کو شروع کرنے میں بھی مولوی ابوالعطاء صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ مولوی ظفر محمد صاحب اور دیگر اساتذہ کی کوشش قابل شکریہ ہے"۔بحواله تاریخ احمدیت جلدا اصفحه ۴۰۳۴۰۲)