حیاتِ خالد — Page 438
حیات خالد 434 ماہنامہ الفرقان“ ابتدائی زندگی ، شاہی دستار بندی، سیاسی اہمیت، احمدیت سے واقفیت کا پہلا موقع ،سفر قادیان ، قادیان میں قیام کے متفرق واقعات ، سفر جہلم، کابل کو واپسی ، گرفتاری ، قید خانہ کے حالات، واقعہ شہادت کے بعد اہم واقعات کا ظہور اور پھر امیر حبیب اللہ ، ڈاکٹر عبدالغنی، قاضی عبدالرزاق کا انجام بھی بتایا گیا ہے۔حضرت بابا گرو نانک کے بارے میں مسلم سکھ تنازعہ ہے کہ حضرت بابا گرونا تک مسلمان تھے یا سکھ ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلی مرتبہ یہ ثابت کیا کہ بابا گرونانک خدا کے فضل سے مسلمان تھے اور اپنی اس بات کے ثبوت کے طور پر کہا کہ ان کا چولہ نکال کر دیکھ لو اس پر شہادت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ آپ مسلمان تھے اور حق پاچکے تھے۔چنانچہ اس موضوع کو بھی مدیر الفرقان نے تشنہ نہیں چھوڑا اور بہت سارے مضامین اس بارے میں شائع کئے۔گیانی واحد حسین صاحب کا ایک مضمون جون ۱۹۶۰ء سے قسط وار بعنوان ”بابا نانک کا اسلام اور سکھ صاحبان کے اعتراضات کے جواب شائع ہونا شروع ہوا۔حضرت بابا گرونانک کے علاوہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ، حضرت سید احمد شہید بریلوی، حضرت شیخ محی الدین ابن عربی، ورقہ بن نوفل کے بارے میں شیخ عبد القادر صاحب کا ایک تحقیقی مقالہ اور اس نوعیت کے متعد د مضامین وقتا فوقتا الفرقان کے صفحات کو زینت بخشتے رہے۔یوں تو بہت سی غیر احمدی اہم شخصیات کے بارے میں مضامین لکھے گئے جن غیر احمدی شخصیات میں مولانا مودودی، علامہ اقبال، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک رویا بھی شائع کی گئی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ قائد اعظم کے متعلق ہے۔ڈاکٹر اقبال کی زندگی کے دو ادوار جولائی اگست ۱۹۶۷ء کے شمارہ میں شائع ہونے والے اس مضمون میں مولانا موصوف نے یہ بتایا ہے کہ اقبال نے احمدیت کی حمایت کیوں کی اور پھر مخالفت کی کیا وجہ تھی ؟ وو سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے ایک ملاقات حضرت مولانا غلام بازی صاحب سیف مرحوم کے قلم سے نکلا ہوا قیمتی مضمون جون ۱۹۶۰ء کے الفرقان میں شائع ہوا۔الفرقان میں مختلف اسلامی فرقوں کے بارے الفرقان اور بڑے بڑے اسلامی فرقے میں مضامین شائع ہوتے رہتے تھے۔ان فرقوں میں شیعہ، اہلحدیث اور اہل قرآن وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان کے بارے میں ان کے عقائد، اعمال اور بنیادی اصول الفرقان میں شائع ہوئے۔اہل تشیع کے متعلق مئی ۱۹۶۶ء کے