حیاتِ خالد — Page 439
حیات خالد 435 ماہنامہ الفرقان الفرقان میں آل محمد ﷺ میں نبوت و رسالت کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا۔پھر حضرت مولوی عبید اللہ صاحب بہل جو قاری اور عربی کے ایک تبحر عالم تھے اور شیعی مسائل میں ماہر تھے ان کا ایک مضمون الفرقان ۱۹۵۸ء کے شمارے میں ” خلفاء ثلاثہ کی حقانیت اور دیگر شیعی مسائل کے متعلق شیعہ اکابرین سے نہایت دلچسپ گفتگو کے عنوان سے شائع ہوا۔اہلحدیث فرقہ کے بارہ میں مولانا ابو العطاء صاحب کا ایک مضمون ستمبر ۱۹۷۰ء کے الفرقان میں شائع ہوا۔بہائیت کے بارہ میں مولانا ابو العطاء صاحب کی گہری علمی قابلیت مسلمہ جانی جاتی ہے آپ بہائیت نے تحریک بہائیت کا مکمل تعارف کرواتے ہوئے بہت سے مضامین ان کے اختلافی مسائل پر تحریر فرمائے۔جن میں تحریک بہائیت کے متعلق ضروری معلومات بہائیت کے متعلق دو ضروری نوٹ“ اور ” بہائی صاحبان کے اعتراضات کا جواب ”بہائیوں کے ساتھ فیصلہ کی آسان راہ اور قرآن مجید اور بہائی تحریک اہم مضامین ہیں۔مقالہ جات میں سب سے اہم مقالہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ للہ تعالی کا ہے۔یہ مقالہ جات مقالہ ”حوادث زمانہ یا عذاب الہی" کے عنوان سے اکتوبر نومبر ۱۹۷۶ء اور اپریل ۱۹۷۷ء کے شمارے میں تین قسطوں میں شائع ہوا۔پھر مورخ احمدیت محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد کا مقالہ ” جماعت اسلامی نمبر مئی ۱۹۵۵ ء کی زینت بنا۔” قرآنی سورتوں کے اسماء اور مختصر تغییر" کے عنوان سے جولائی ۱۹۷۲ء کے شمارے میں محترم شیخ نور احمد صاحب منیر کا مقالہ شائع ہوا " اور انہی کا ایک مقالہ رمضان المبارک کی برکات“ کے عنوان سے دسمبر ۱۹۶۶ء میں چھپا۔بائیل کی الہامی حیثیت چونکہ مشکوک ہو چکی ہے اور خود عیسائی الفرقان، بائبل اور عیسائیت حضرات اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں لہذا اسے کلام الہی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔الفرقان میں بائیل کی الہامی حیثیت اور عیسائیت کی موجودہ مذہبی حیثیت پر سیر حاصل بحث پر مشتمل مضامین موجود ہیں۔مثلاً ” کیا موجودہ بائبل الہامی ہے؟“ کے عنوان سے سید احمد علی شاہ صاحب کا مضمون ستمبر ۱۹۶۸ء کے شمارے میں شائع ہوا۔گا ہے لگا ہے اسی طرز پر مختلف مضامین شائع ہوئے جن میں سید میر محمود احمد صاحب کا مقالہ اور مکرم نسیم سیفی صاحب کا ایک مضمون بہت قابل ذکر بالترتیب مئی جون ۱۹۶۸ء اور اگست ۱۹۷۰ء کے شماروں میں شائع ہوئے۔عیسائیت کے ہے۔یہ مختلف عقائد پر بھی مضامین کا ایک بہت عمدہ مجموعہ الفرقان نے مہیا کر دیا ہے چند ایک اہم مضامین درج