حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 437 of 923

حیاتِ خالد — Page 437

حیات خالد 433 ماہنامہ الفرقان 66 ان کی اہمیت اور مقام کی وضاحت اسلام کے لئے ایک ضروری اور لا بدی امر تھا اور مولا نا جو کہ اسلام کے ایک جانا رسپاہی تھے آپ نے بہت سے مضامین ایسے انبیاء کی عصمت و ناموس کی حفاظت کی خاطر شائع کئے جن میں ” حضرت ذوالکفل سے مراد کو نسا پیغمبر ہے؟ تحریر شیخ عبدالقادر صاحب فاضل الفرقان ستمبر ۱۹۶۶ء میں چھپا۔ذوالقرنین کے عنوان سے شیخ صاحب کا مضمون ستمبر ۱۹۶۵ء میں شائع ہوا۔گوتم بدھ کی زندگی پر خاص نمبر اپریل ۱۹۵۷ء میں شائع کیا گیا۔حضرت لقمان کے بارے میں حکمت لقمان“ کے عنوان سے نومبر ۱۹۶۵ء میں شیخ صاحب کا مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔حضرت اور میں علیہ السلام مکہ میں" کے عنوان سے شیخ صاحب کی تحقیق جولائی ۱۹۶۴ء میں شائع ہوئی۔حضرت نوح علیہ السلام کی عمر کے زیر عنوان شیخ صاحب کا مضمون ستمبر ۱۹۷۱ء کے شمارے کی زینت بنا۔علاوہ ازیں بہت سے انبیاء کے بارے میں تحقیقی مقالہ جات شائع ہوئے جن کو جماعت احمد یہ خدا کے برگزیدہ اور بزرگ انبیاء تسلیم کرتی ہے۔انبیاء کے عنوان سے ۱۱۴اہم مضامین محترم شیخ عبد القادر صاحب نے لکھے ہیں۔مکرم شیخ صاحب کا یہ خاص موضوع تھا۔ان کے بعد زیادہ مضامین مولانا ابوالعطاء صاحب کے ہیں جو تعداد میں ۱۰ ہیں۔انبیاء کے بارے میں یہ ساری معلومات بالکل نئی اور Original ہیں اور احمد یہ لٹریچر میں انبیاء کے موضوعات پر اس سے پہلے ایسی تحقیق بہت کم ہوئی ہے اس لحاظ سے الفرقان نے بے حد قیمتی مضامین اپنے اندر سمور کھے ہیں۔الفرقان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انبیاء کے علاوہ دیگر بزرگان امت اور بزرگان و اولیا ء امت اولیاء کرام کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتا ہے۔بزرگان احمدیت میں سے بعض بزرگان کے بارے میں خاص نمبر بھی نکالے گئے۔ان بزرگان کی حیات پر روشنی ڈالنی اس لئے بھی ضروری تھی کہ ان لوگوں کی سوانح و سیرت کو لوگ اپنی زندگیوں میں جاری کر سکیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔جن بزرگوں پر خاص نمبر شائع کئے گئے وہ یہ ہیں :- حضرت حافظ روشن علی صاحب دسمبر ۱۹۲۰ ء۔حضرت میر محمد الحق صاحب ستمبر ۱۹۶۱ ء۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس - جنوری ۱۹۶۲ ء - قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپریل ۱۹۶۴ ء - حضرت فضل عمرہ نمبر دسمبر ۱۹۶۵ ء وغیرہ۔ان کے علاوہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیڈ پر دسمبر ۱۹۶۹ء کے شمارے میں محترم بشیر احمد خان صاحب رفیق کا مضمون شائع ہوا جس میں ان کی