حیاتِ خالد — Page 411
حیات خالد 406 پاکستان کی قومی اسمبلی میں حضرت مسیح موعود نے تفسیر کے بارے میں بیان کی ہیں۔اس کے بعد پیکر نے کہا کہ مرزا صاحب آپ کے ڈیلیگیشن سے میری درخواست ہے کہ آپ لوگ دس منٹ کے لئے ذرا اپنے کمرے میں تشریف لے جائیں۔خیر ہم چلے گئے۔چائے وغیرہ پی۔اس کے بعد انہوں نے پھر بلایا۔ہم آگئے۔سوالوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ظفر انصاری صاحب نے کھڑے ہو کر سوال کر دیا۔حضرت صاحب نے مائیک میرے آگے کر دیا۔میں نے جواب دینا شروع کر دیا۔ابھی دو جملے ہی بولے تھے کہ سپیکر صاحب کہنے لگے۔مرزا صاحب بہتر یہی ہے کہ آپ خود جواب دیں۔حضرت صاحب کہنے لگے یہ تو طے ہو گیا تھا کہ مولوی صاحب جواب دیں گے۔کہنے لگے ، ذمہ داری تو آپ کی ہے۔حضور نے فرمایا ہاں میری ذمہ داری ہے۔جو یہ جواب دیں گے میرا جواب سمجھا جائے گا۔کہنے لگے نہیں انہیں بہتر یہی ہے کہ حضور خود جواب دیں۔جب تین چار دفعہ انہوں نے اصرار کیا تو حضور نے فرمایا۔بہت اچھا۔اور مائیک اپنے سامنے کر لیا۔ہم نے اندازہ یہ لگایا کہ غالبا ان لوگوں نے سوچا ہوگا کہ آج عربی کی عبارتیں ہیں۔حضرت صاحب کو عربی آتی ہے یا نہیں آتی۔اور دوسرا وہ یہ کھتے تھے کہ پہلے ہر روز کا پتہ ہوتا تھا کہ کیا سوال آنے ہیں۔تو مرزا صاحب ان سوالوں کے جواب جانتے تھے۔آج ٹیسٹ ہو جائے گا۔یہ مشورہ کر کے انہوں نے یہ کہا کہ اب یہ فیصلہ بدل دو اور کہو کہ مرزا صاحب خود جواب دیں۔حضرت صاحب نے جواب دیئے اور اللہ کی تائید پہلے دنوں سے بھی زیادہ شان سے ظاہر ہوئی۔بہت لطف آیا اس روز جب حضور جواب دیتے تھے تو مولوی ظفر احمد صاحب انصاری جو ایک لائن کے بعد دوسری لائن میں سامنے بیٹھے تھے۔تو وہ اثبات میں سر ہلاتے تھے۔خیر جب ہم چائے کے وقفے میں واپس آئے تو حضرت صاحب مجھے کہنے لگے، مولوی صاحب! میں جب جواب دیتا تھا تو یہ سر ہلاتا تھا۔میں نے کہا حضور یہ مولویوں کی عادت ہوتی ہے۔رابطہ عالم اسلامی کا ایک رسالہ ہے وہ ان دنوں ہمیں وہاں مل گیا اس میں انہوں نے افریقہ سیکس (Africa Speaks) جو کتاب ہے اس کے بہت سے فوٹو دیتے ہوئے ہیں اور لکھا ہے کہ دیکھو قادیانی کس تگ و دو کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔کہیں مسجد بنائی جارہی ہے کہیں ہسپتال کھولا جارہا ہے حضرت صاحب افتتاح کر رہے ہیں۔اور وہاں پر ذکر آیا کہ احمدیوں نے کلمہ میں احمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے تو حضرت صاحب نے وہ رسالہ پیش کر دیا۔ظفر احمد انصاری صاحب نے کہا کہ یہ رسالہ مجھے دے دیں۔میں اس پر کل سوال کروں گا۔حضرت صاحب نے فرمایا دے دو۔میں انہیں دے آیا