حیاتِ خالد — Page 412
حیات خالد 407 پاکستان کی قومی اسمبلی میں دوسرے دن ان سے پوچھا کہ سوال کریں کہنے لگا آج اس رسالہ سے سوال نہیں کرنا تیسرے دن پھر پوچھا پھر کہا نہیں۔چوتھے دن پوچھا تو کہنے لگا آپ رسالہ ہی واپس لے لیں۔کوئی سوال نہ کیا۔حضرت صاحب بار بار ہم سے مذاق کیا کرتے تھے کہ تم لوگ تو مناظر ہو میں کوئی مناظر تو نہیں ہوں۔یہ حضور کی بے تکلفی کی باتیں تھیں۔وہاں ایک سوال آیا کہ ایک کتاب غالباً سیرۃ الابدال پر اعتراض ہے۔اس کتاب کے صفحہ نمبر ۱۹۶ پر یہ بات لکھی ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔اچھا کل جواب دیں گے۔کئی باتوں پر فرمایا کرتے تھے کہ تحقیق کر کے کل یا پرسوں جواب دیں گے۔وہاں پر آ کر سیرۃ الا بدال دیکھی اس کے تو اتنے صفحے ہیا نہ تھے۔خیر حضور صبح گئے۔اور فرمانے لگے بیٹی بختیار صاحب! کل آپ نے کیا سوال کیا تھا جو رہ گیا تھا۔انہوں نے سوال دہرا دیا۔حضرت صاحب نے فرمایا کتنا صفحہ نمبر آپ نے بتایا تھا۔انہوں نے صفحہ بتا دیا ۱۹۶۔حضرت صاحب نے فرمایا میں نے جا کر وہ کتاب دیکھی اس کے ۱۹۶ صفحے چھوڑ سو صفحے بھی نہیں ، اسی صفحے بھی نہیں ، ستر صفحے بھی نہیں۔تو میں نے سوچا کہ پتہ نہیں کس طرح آپ نے یہ سوال کر دیا ہے اور پھر میں نے خیال کیا کہ شاید صفحوں کی غلطی لگ گئی ہو تو کتاب میں کہیں یہ مضمون ہوگا۔چنانچہ شروع سے لے کر آخر تک میں نے کتاب پڑھی۔کہیں پر وہ عبارت بھی نہیں ہے جو آپ نے بتائی ہے۔تو اب وہ بیچارے بڑے حیران ہوئے کہنے لگے کہ مولوی صاحبان نے سوال کیا تھا۔اور مولوی صاحبان کو کہنے لگے کہ آپ نے کیا صفحہ بتایا تھا۔اب ایک کہے فلاں نے سوال دیا تھا دوسرا کہے فلاں نے دیا تھا۔بڑی افرا تفری مچ گئی۔ہمیں ہنسی آگئی۔اس پر ہماری شکایت کی گئی کہ وفد کے ممبر جو ہیں یہ ہنتے ہیں۔ہماری بھٹو صاحب سے شکایت کی گئی کہ ممبران وفد بنتے ہیں۔بھٹو صاحب نے ہم سے کہا کہ ان پر نہ انہیں۔ہم نے کہا بے اختیاری کی بات ہے مجبور ہیں ہم۔جان بوجھ کر تو ہم نہیں بنتے۔خیر جب ہم چائے پر گئے تو میں نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ آپ نے کس طرح ان کو لپیٹا اور گھیر گھار کر ان کا منہ بند کر دیا۔بس یہی مناظرہ ہوتا ہے۔بہتے ہوئے فرمانے لگے نہیں نہیں یہ مناظرہ نہیں۔یہ لطیفے بھی ہوتے تھے۔جس دن سب کچھ ختم ہوا تو اٹارنی جنرل کہنے لگے آپ کچھ آخر میں کہنا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا میں کچھ نہیں کہنا چاہتا بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میری دعا ہے آپ کے لئے اور دوسرا یہ کہ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ہمارے دل چیر کر دیکھیں گے تو اس کے اندر سوائے اللہ کی محبت اور