حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 118 of 923

حیاتِ خالد — Page 118

حیات خالد 124 مناظرات کے میدان میں غلطی کو فوراً پکڑ انگر پادری صاحب فرمانے لگے کہ دونوں طرح صحیح ہے گویا آپ اجتماع ضدین" کوممکن قرار دے رہے ہیں۔خداوند کریم کا ہزار شکر ہے کہ نہایت امن کے ساتھ کامیاب گفتگو ہوئی اور باوجود اس کے کہ پادری صاحب نے مولوی صاحب کے متعلق ” بکواس اور خرافات“ وغیرہ عامیانہ الفاظ کا استعمال بھی کیا مگر مولانا صاحب نے نہایت صبر و استقلال سے ایسے الفاظ کو بالکل نظر انداز کیا اور اعلیٰ تہذیب کا نمونہ پیش کرتے ہوئے اسلام کا بول بالا کیا۔(خاکسار عبدالعزیز سیکرٹری تبلیغ جماعت احمد یہ گجرات ) اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخه ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء صفحه ۸-۹) آج یکم اکتوبر ۱۹۲۸ء کو آپ کی طرف بنام وکیل نوش بنام مولوی عبد اللہ صاحب وکیل سرینگر سے ایک تحریر باسط عبدالعزیز کوئی موصول ہوئی۔جس میں آپ نے بہاء اللہ ایرانی کے ادعاء الوہیت اور اسے آیت لو تقول کے دائرہ سے خارج ثابت کرنے پر قادیانیوں کو پانچ سوروپیہ بطور تاوان دینے کا اقرار کیا ہے اور تمام جماعت احمدیہ کو چیلنج کیا ہے۔سو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے اس چیلنج کو منظور کرتا ہوں۔میں اس بات کا ذمہ دار ہوں کہ ثابت کروں کہ بہاء اللہ ایرانی ۲۳ سالہ معیار ( لو تقول ) کے ماتحت نہیں آتا۔اس کا دعوی بعینہ اسی طور پر الوہیت کا ہے جس طرح کا دعویٰ آج کل مسیحی لوگ حضرت مسیح کی الوہیت کیلئے پیش کرتے ہیں۔یعنی ایک پہلو سے انسان اور ایک پہلو سے خدا۔یہی دعوی احمد یہ لڑ پچر میں بہاء اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔آپ کے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے میں اس نوٹس کے ذریعہ آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ آپ فوراً مبلغ پانچ صد روپیہ امپیریل بنک آف انڈیا میں جمع کرا کے اس کے مینیجر کی طرف سے ایسی تحریر با قاعدہ فورا مجھے بھیجوا دیں کہ اگر ثالث جماعت احمدیہ کے حق میں فیصلہ دیں گے تو خاکسار کو مبلغ پانچ سو روپیہ فوراً ادا کر دیا جائے گا۔اس چیلنج کے جواب میں پرچوں کے شروع کرنے اور ان کی تعداد اور دیگر شرائط کے متعلق مندرجہ بالا تحریر آنے پر تصفیہ کیا جا سکتا ہے۔فقط نوٹ : ۵/اکتوبر تک اس نوٹس کا جواب میرے نام معرفت خلیفه نورالدین صاحب احمدی سری مگر آنا چاہئے۔بعد ازاں قادیان کے پتہ پر : خاکسار ابو العطاء اللہ دتا جالندھری مولوی فاضل مبلغ جماعت ( الفضل ۱۲ اکتوبر ۱۹۲۸ء) احمد یہ قادیان۔