حیاتِ خالد — Page 117
حیات خالد 123 مناظرات کے میدان میں پر معلوم ہوا کہ آج کا لیکچر مسیح کی آمد ثانی" پر ہے۔لیکچر کیا تھا؟ پادری صاحب نے دل کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام (فداہ ای وابی ) پر پخش اور گندے حملے کئے اور یہ اس لئے کہ غیر احمدی پبلک کو جوش دلایا جائے مگر ہمارے فاضل مناظر نے اپنی پہلی ہی دس منٹ کی تقریر میں مناظرہ کا رنگ بدل دیا۔آپ نے مسلمان پبلک کو پادری صاحب کے اس لیکھر کی غرض و غایت کو اچھی طرح واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اپنے گھر کے جھگڑے گھر میں فیصل کر لیں گے۔آج کی بحث " حضرت مرزا صاحب کی صداقت انجیل سے" کے مسئلہ پر ہے۔آپ نے پادری صاحب کے تمام لیکچر کا دندان شکن جواب انجیل کے حوالوں سے دیا اور حضرت مسیح کی آمد ثانی کو ایلیا کی آمد ثانی سے تطبیق دے کر حضرت مسیح موعود کی صداقت کو ثابت کیا اور پادری صاحب کو کھلا کھلا چیلنج دیا کہ وہ انجیل سے حضرت مسیح کی دو ایسی پیشگوئیاں دکھا ئیں جو پوری ہوئیں ہم اس کے بعد مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چار پیشگوئیاں پیش کریں گے۔مگر افسوس کہ پادری صاحب نے اس چیلنج کا ذکر تک نہ کیا اور اپنی خاموشی سے اپنی کمزوری پر صاد کیا۔الحمد للہ کہ اس مضمون پر مباحثہ نہایت کامیابی کے ساتھ ہوا اور غیر احمدی پبلک نے متفقہ طور پر " ہماری تائید کی۔اس مضمون کے ختم ہوتے ہی جناب مولانا نے اعلان فرمایا کہ : - پادری صاحب نے قرآن کریم سے وحدت انہی کی حد نام از روئے اسلام دکھانے کا جو پیج دیا ہے میں اسے منظور کرتا ہوں اور اسی وقت اس پر بولنے کو تیار ہوں۔چنانچہ ایک گھنٹہ اس پر بحث کیلئے مقرر ہوا ہمارے فاضل مناظر نے حد نام کی حد تام بیان فرماتے ہوئے پادری صاحب کے اعتراض کے آٹھ جواب دیئے۔آپ نے بدلائل منطق و فلسفہ یہ ثابت کیا کہ یہ سوال ہی فلسفہ و منطق سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔پھر آپ نے قرآن کریم سے " لا إلهَ إِلَّا هُوَ الحَيُّ الْقَيُّومُ پڑھ کر فرمایا کہ وحدت انہی کی حد نام الی القیوم ہے اور آپ نے حد نام کی تمام شرائط کو " الحَيُّ الْقَيُّومُ "مین ثابت کرتے ہوئے فرمایا کہ فلسفہ کی پیش کردہ حد نام یعنی "واجب الوجود " ناقص ہے۔کیونکہ لغت میں اس کے تین معنی ہیں مگر قرآن کی حد تمام فی الحقیقت حد نام ہے کیونکہ القیوم " کا لفظ غیر اللہ پر بولا ہی نہیں جا سکتا۔پادری صاحب نے اپنی فلسفہ دانی ثابت کرتے ہوئے ایک عربی کتاب سے کچھ عبارت پڑھی۔چونکہ اس پر اعراب نہ تھے اس لئے آپ نے عبارت غلط پڑھی۔جناب مولوی صاحب نے آپ کی