حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 119 of 923

حیاتِ خالد — Page 119

حیات خالد 125: مناظرات کے میدان میں الفضل ۱۲ /اکتوبر ۱۹۲۸ء میں ایک نوٹن موادی عبد اللہ صاحب وکیل سری نگر کا فرار نام مولوی عبدالله وکیل خاکسارکی طرف سے شائع ہوا جو ان کی تحریر موصولہ کم اکتوبر کی بناء پر تھا۔مولوی صاحب نے اس کی بناء پر جو رقعہ مجھے بھیجا اس میں لفظی ایچا پیچی کرتے ہوئے لکھا تھا: - جواب نوٹس ابھی ارسال خدمت ہے۔جو الفاظ بذریعہ عزیز کوئی میں نے لکھے ہیں۔ان کو انگلی آپ نے ترک فرمایا ہے اور اپنے نوٹس میں اپنی طرف سے الفاظ لکھے ہیں۔جس کا نتیجہ صاف ہے کہ آپ نے میر ا چیلنج منظور نہیں فرمایا ہے“۔میں نے اس کے جواب میں ۱/۱۵ اکتوبر کو سرینگر سے ذیل کا خط ان کی خدمت میں روانہ کیا جس کا تا حال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔میرا خط یہ ہے۔مولوی عبد اللہ صاحب وکیل سرینگر ! افسوس کہ آپ نے نوٹس کے جواب میں جو تحریر بھیجی ہے وہ نہ صرف دور از کار ہے بلکہ چیلنج دہندہ کی حقیقت کو بھی آشکار کر رہی ہے۔کجا آں شورا شوری کجا این بے نمکی عبد العزیز کوئٹی کا سوال اور آپ کا متحد یا نہ جواب میرے سامنے ہے۔پھر نا معلوم آپ " کس بناء پر کہہ رہے ہیں کہ آپ نے میرا چیلنج منظور نہیں فرمایا۔اس قدر دیدہ دلیری؟ میں ادھر ادھر کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔صاف الفاظ میں لکھتا ہوں کہ آپ کا پانتایج منظور ہے۔آپ روپیہ جمع کرا کر میدان عمل میں آئیں اس قسم کی ایچا پیچیاں شیوہ مردانگی نہیں۔یہ وہم نہ کریں کہ اب آپ یونہی بچ جائیں گے ہر گز نہیں۔انشاء اللہ إِذَا عَتُلَقْتُ أَظَافِيرِى بِخَصْمٍ فَمَرْجَعُه نَكَالٌ اَوْ طَلاح ترجمہ از ناقل : جب میں اپنے مد مقابل پر اپنے پنجے گاڑ دیتا ہوں تو اس کا انجام عبرت اور ہلاکت ہوتا ہے۔نوٹ : مولوی عبد اللہ صاحب نے چند ایک حوالے بہائیت کی تائید میں اخبار ”پیغام صلح میں شائع کرائے ہیں جس کے متعلق ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس ” بے قاعدہ طریق سے ہمارا مطالبہ پورا نہیں ہو سکتا۔انہیں با قاعدہ طور پر روپیہ بنک میں جمع کرا کر ثالث مقرر کر کے تحریری مباحثہ کرتا ہو گا۔اگر وہ اس کے لئے تیار ہوں تو چشم ما روشن دل ما شاذ اور نہ ان کا گریز ظاہر ہے۔کیا وہ اپنے چیلنج پر