حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 116 of 923

حیاتِ خالد — Page 116

حیات خالد 122 مناظرات کے میدان میں صاحب نے وہ آیات بائیل سے پیش کیں۔جو بعد میں ملا دی گئیں۔مثلا "موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مرگیا اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا۔پر آج کے دن تک اس کی قبر کو کوئی نہیں جانتا۔(استثناء ۶،۵:۳۴) کیا کوئی عقلمند تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ آیت حضرت موسیٰ پر ان کی زندگی میں الہام ہوئی تھی۔ایک تیسری فہرست میں مولوی صاحب نے تناقضات بائبل کے حوالے بائیل سے پیش کئے۔مثلاً خدا انسان نہیں کہ جھوٹ بولے۔نہ آدم زاد ہے کہ پشیمان ہو۔( گنتی ۱۹:۲۳) سموئیل ۲۱:۲۴ میں لکھا ہے خداوند نے داؤد کے دل میں ڈالا کہ۔۔۔اسرائیل اور یہوداہ کو گن۔مگر (۱۔تواریخ ۱:۲۱) میں لکھا ہے۔”شیطان اسرائیل کے مقابلہ میں اٹھا اور داؤد کو ابھارا کہ اسرائیل کا شمار کرے۔پادری صاحب ان تینوں فہرستوں کا کچھ جواب نہ دے سکے۔اور سہو کا تب“ کے عذ رلنگ کو پیش کیا مگر جناب مولانا صاحب نے فرمایا کہ فن کتابت کا تعلق محض بائبل ہی سے ہے یا دوسری کتب بھی کاتیوں ہی سے لکھائی جاتی ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ قرآن کریم بھی کا تہوں سے لکھایا جائے اور ایک نقطہ تک نہ بدلے۔مگر جب انجیل مقدس حضرت کا تب“ لکھنے بیٹھیں تو سہو پر سہو ہوتا چلا جائے اور پھر لطف یہ کہ سہو" بھی ان آیتوں کے متعلق ہو جن کی موجودگی نصاری کے لئے مضر ہے۔اور پھر سہو کا تب" بھی ہو تو ایک لفظ غلط لکھا گیا ہو۔مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ یوحنا ( ۵۳:۷ سے لے کر ۱۱:۸) تک کی آیات بعد کے نسخوں سے ندارد ہوں۔بالآخر پادری صاحب سخت مجبور اور لاجواب ہو کر کہنے لگے کہ یہ آیات بائبل سے نکال دی گئی ہیں۔تو پھر یہ نہ کہو کہ بائبل محرف ہے۔بلکہ یہ کہو کہ بائبل کم کر دی گئی ہے"۔یہ تھا عیسائیوں کے چوٹی کے مناظر کا دبی زبان سے يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ“ کا اقرار ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا چوتھے دن ۲۸ فروری ۱۹۲۸ء کو جو آخری دن تھا مضمون لیکچر کا اعلان نہ کیا گیا جس کی وجہ گذشتہ دنوں کی شکست تھی اور جس کا مزید اظہار اس طرح پر ہوا کہ ہماری طرف سے تین دفعہ تحریری طور پر دریافت کیا گیا مگر پادری صاحب نے جواب دینے سے انکار کر دیا اس لئے مین لیکچر کے شروع ہونے