حیاتِ خالد — Page 115
حیات خالد 121 مناظرات کے میدان میں وو ۱۹۲۸ ء ان کا جلسہ ہے اور پادری عبدالحق صاحب تشریف لا رہے ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ ہر روز لیکچر کے خاتمہ پر ایک گھنٹہ تک سوال و جواب کا بھی موقعہ ہو گا۔چنانچہ اس کے مطابق ہم نے مرکز سے مولانا اللہ دتا صاحب جالندھری مولوی فاضل کی تشریف آوری کے لئے اجازت حاصل کی مگر اچانک ہی ۲۵ فروری ۱۹۲۸ء کو منیجر صاحب مشن سکول کی طرف سے اشتہار تقسیم کئے گئے کہ پادری صاحب تشریف لے آئے ہیں اور آج رات کے ساڑھے سات بجے ان کا لیکچر ہوگا اور لطف یہ کہ لیکچر کے مضمون سے بھی اطلاع نہ دی۔پادری صاحب نے مقررہ وقت پر باطل مذہب کے مضمون پر اپنی تقریر شروع کی اور چند معیار پیش کئے جن سے ہر باطل مذہب کی پہچان ہو سکے اور ان معیاروں سے عیسائیت کو منزہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔اسی مضمون پر ملک عبد الرحمن صاحب خادم سیکرٹری’ ینگ مین ایسوسی ایشن نے کامیاب سوال و جواب کئے اور آیات قرآنی کے حوالے سے ثابت کیا کہ تمام نقائص سے اسلام ہی پاک ہے۔پادری صاحب نے اس پر پردہ ڈالنے کی بہت کوشش کی مگر صداقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے۔حاضرین پر اچھا اثر ہوا۔دوسرے دن کا مضمون ” کلام الہی تھا۔مولانا مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری مولوی فاضل بھی تشریف لے آئے تھے۔پادری صاحب نے لفظی الہام سے انکار کیا مگر مولوی صاحب نے صرف دس منٹ میں بائبل کے حوالہ سے یہ ثابت کیا کہ خدا تعالیٰ موسیٰ سے بولا اور کہا کہ اے موسی ”اے موسیٰ! جس کا جواب پادری صاحب نہ دے سکے اور زبان حال سے اپنی کمزوری کا اقرار کیا۔تیسرے دن کا پیپر تحریف بائبل کے مسئلہ پر تھا۔پادری عبدالحق صاحب نے اپنا تمام زور اس بات پر صرف کیا کہ کلام الہی میں تحریف ہے ہی ناممکن سچ سچ ناممکن مگر مولوی صاحب نے بائبل کے حوالہ سے بتایا کہ سر زمین ان کے نیچے جو اس پر بستے ہیں نجس ہوئی کہ انہوں نے شریعتوں کو عدول کیا۔قانون کو بدلا عہد ابدی کو توڑا۔(یسعیاہ ۵:۲۴) علاوہ ازیں جناب مولوی صاحب نے دو مختلف سنوں کی شائع شد و با کلیں پیش کرتے ہوئے آیات کی لمبی چوڑی فہرست پیش کی۔جو نئے ایڈیشن سے بالکل اڑا دی گئی ہیں۔مثلا ایک فرشتہ وقت بوقت اس حوض میں اتر کر پانی بلاتا تھا۔سو پانی کے ملنے کے بعد جو کوئی پہلے اس میں اترتا تھا کیسی ہی بیماری میں گرفتار کیوں نہ ہو چنگا ہو جاتا تھا۔یہ آیت یوجنا ۴:۵ بائیل مطبوعہ ۱۸۷۸ء میں موجود ہے۔مگر ۱۹۱۸ء میں قطعاً موجود نہیں۔ایک دوسری فہرست میں مولوی