حیاتِ خالد — Page 113
حیات خالد 119 مناظرات کے میدان میں تھا۔نہایت امن کے ساتھ لوگوں نے سنا اور مناظرہ کے وقت ہی تعلیم یافتہ لوگوں اور بعض دوسرے لوگوں نے کہدیا کہ عیسی علیہ السلام فوت شدہ ہیں۔بلکہ عیسائیوں اور ہندوؤں نے کہا کہ محمد شفیع صاحب کو کوئی جواب نہیں آیا۔دوسرا مسئلہ صداقت مسیح موعود علیہ السلام لوگوں نے نہایت توجہ سے سنا۔غرض یہ کہ مناظرہ کامیابی اور امن سے ختم ہوا۔خاکسار غلام رسول سیکرٹری انجمن احمد یہ عید والی ) الفضل ۱۸ / فروری ۱۹۲۷، صفحه ۲ کالم نمبر ۴ جلد ۱۴ نمبر ۶۶) ۱۳ / فروری موضع بسر اواں متصل قادیان میں ایک مناظره بسر اواں ۱۳ / فروری ۱۹۲۷ء غیر احمدی مولوی صاحب سے مولوی اللہ و تا صاحب مولوی فاضل کا صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر مباحثہ ہوا۔دفاتر اور سکولوں میں نصف دن کی تعطیل کر دی گئی تا کہ جو لوگ مباحثہ سنا چاہیں وہ شریک ہوسکیں۔مباحثہ بہت کامیابی کے ساتھ ہوا۔( افضل ۱۸ فروری ۱۹۲۷، جلد نمبر ۶ صفحه اول کالم نمبر از سرعنوان هم یه اسم) مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری تحصیل نارووال میں ایک مباحثه نارووال مارچ ۱۹۲۸ء مباحثہ کے لئے بھیجے گئے ہیں۔الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ ز بر عنوان مهر به مسیح) محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب بھا مٹری صدر محتلہ دار النصر مناظرہ بھا مری ۲۷-۱۹۲۶ء غربی ربوہ لکھتے ہیں۔۲۷۔۱۹۲۶ء کی بات ہے ان دنوں حضرت مولانا نوجوان تھے اور ابھی تازہ تازہ میدان عمل میں آئے تھے کہ موضع بھا مڑی نز د قادیان میں اہل حدیثوں کے ساتھ مناظرہ ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت مولانا مناظر تھے۔مناظرہ نہایت کامیابی سے ہوا۔مناظرہ کے بعد میں نے خود غیر از جماعت لوگوں کو کہتے سنا۔وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اور باتوں کو جانے دو احمدی مناظر مولوی اللہ دتا کا انداز تکلم اور مخالف کو جواب دینے کا طریق نہایت اعلیٰ تھا۔ہمارے مولوی صاحب غصہ اور اشتعال میں آ جاتے تھے لیکن احمدی مناظر مسکرا کر بات کرتے تھے ہمارا مناظر غصہ دلانے والی بات بھی کر جاتا تھا لیکن احمدی مناظر مسکرا کر مہذبانہ جواب دیتے تھے۔مولوی اللہ دتا صاحب گجرات گئے ہیں۔جہاں مباحثہ گجرات و سیالکوٹ مارچ ۱۹۲۸ء سے فارغ ہو کر سیالکوٹ جائیں گے۔دونوں