حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 114 of 923

حیاتِ خالد — Page 114

حیات خالد 120 مناظرات کے میدان میں جگہ عیسائیوں کے جلسے ہیں۔(الفضل ۲ مارچ ۱۹۲۸ صفحه کالم نمبر از سرعنوان مدینہ اسی نمبر ۶۹ جلد ۱۵) (از نامه نگار ) سیالکوٹ سیالکوٹ میں عیسائیوں کا مباحثہ سے انکار ۴ مارچ ۱۹۲۸ء میں عیسائیوں نے مباحثہ سے کھلم کھلا انکار کر دیا۔ہم نے لیکچروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ہم نے اور عیسائیوں نے ۴/ مارچ کو ایک مشترکہ کا نفرنس کی۔پادری صاحب کا لیکچر ان کے مایہ ناز مضمون بائبل کی خوبیوں پر تھا۔اور مولوی اللہ دتا صاحب کا لیکچر قرآن پاک کی خوبیوں پر تھا۔باوجود آندھی کے بے شمار مخلوق آئی۔وکٹوریہ ہال میں لیکچر ہوئے۔میں وہ الفاظ نہیں پاتا جن میں اپنے رب کے اس فضل کا اظہار کروں۔جو ہمارے شامل حال رہا۔نہ صرف عام پبلک نے ہمارے مضمون کو غالب قرار دیا بلکہ عیسائی مردوں اور عورتوں نے اقرار کیا کہ اسلام کا مضمون غالب رہا اور ہم جماعت احمدیہ اور لیکچرار صاحب کے مشکور ہیں کہ ہمیں ایسا مضمون سننے کا موقع ملا۔پادری صاحب کو اس طریق پر بغیر دوسرے مذہب پر حملہ کئے اور مضامین کے لئے بھی دعوت دی گئی مگر انہوں نے بھری مجلس میں انکار کردیا اور چلے گئے۔افضل ۹ مارچ ۱۹۲۸، نمبر اے جلد ۱۵ صفحه ۲ کالم۳ ) ۱۲ / مارچ مولوی الله و تا صاحب جالندھری خانیوال سے واپس آگئے۔مناظرہ خانیوال الفضل ۱۶ار مارچ ۱۹۱۸ صفحه کالم نمبر از رعنوان مدینه امسیح) مولوی اللہ دتا صاحب سیالکوٹ سے شام کوٹ خانیوال ضلع ملتان گئے ہیں جہاں مناظرہ ملتان عیسائیوں نے مقامی احمدیوں کو مناظرہ کا چیلنج دیا ہے۔الفضل ۱۳ مارچ ۱۹۲۸ صفحه اسکالم از بی عنوان عمده یه مسیح) مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری تحصیل نارووال میں ایک تحصیل نارووال میں مباحثہ مباحثہ کے لئے بھیجے گئے۔الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء صلی اکالم از سرعنوان همه به مسیح) مدینه اخبار الفضل گجرات میں عیسائیوں سے مباحثہ (۲۶ تا ۲۸ فروری ۱۹۲۸ء) قادیان میں اس مباحثہ کی جورو داد شائع ہوئی وہ ذیل میں درج ہے۔ہمیں گجرات کے چند پادری صاحبان سے زبانی طور پر معلوم ہوا کہ ۲۶ لغایت ۲۸ فروری