حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 873 of 923

حیاتِ خالد — Page 873

حیات خالد 854 گلدستہ سیرت ہوئے لکھا ہے کہ انتہائی بے سروسامانی میں آپ نے جو عظیم الشان جماعتی خدمات سرانجام دینے کی توفیق پائی وہ تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ان ایام میں بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی سے نو عمر طلباء کی گھبراہٹ اور پریشانی کو بھانپتے ہوئے حضرت مولانا نے صبح کی اسمبلی میں طلباء سے انتہائی مختصر مگر پر جوش و موثر خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔وو مساعد حالات میں تو ہر کوئی خوشگوار نتائج پیدا کر لیتا ہے۔جوانمرد تو وہ ہے جو نامساعد حالات میں بھی خوشگوار نتائج پیدا کر دکھائے“۔آپ کا یہ جامع فقرہ خاکسار کے ذہن میں ایسا نقش ہوا کہ جب کبھی مشکل حالات سے دو چار ہوتا ہوں تو میرے محسن اور محترم استاد کے یہ امید افزاء الفاظ میرے لئے ڈھارس اور حوصلہ کا باعث بنتے ہیں۔حکومت کے محکمہ مال کے تعاون سے متروکہ جائیداد مہاجرین کو الاٹ کرنے کی غرض سے جماعت احمد یہ احمد نگر کے اکابرین پر مشتمل ایک الا ٹمنٹ کمیٹی تشکیل دی گئی جن میں حضرت مولانا خاص طور پر قابل ذکر تھے۔انتہائی تلخ حالات کا سامنا کرتے ہوئے آپ نے اس نا خوشگوار اور کٹھن فریضہ کو انجام دیا آپ کے مشوروں اور فیصلوں کو متعلقہ سرکاری افسران بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھتے کیونکہ آپ کے فیصلے استحقاق اور انصاف پر مبنی ہوتے۔قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد مسلم لیگ کے چند عمائدین احمد نگر میں مسلم لیگ کے قیام اور اس کے مقامی صدر کے انتخاب کیلئے آئے تو ایک اجلاس عام میں گاؤں کے تقریباً سب خورد و کلاں حاضر ہوئے۔طبعی طور پر اکثریت غیر احمدی مقامی احباب کی تھی جب کہ احمدی مہاجرین کی تعداد بہت قلیل تھی۔جب صدارت کے لئے رائے طلب کی گئی تو حاضرین نے بیک زبان حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا نام تجویز کیا کیونکہ اہالیان احمد نگر بلالحاظ عقیدہ آپ کی روحانی شخصیت اور حسن و احسان سے متاثر تھے۔چنانچہ حضرت مولانا مسلم لیگ احمد نگر کے پہلے اور متفقہ طور پر صدر منتخب ہوئے۔اسی موقع پر ایک ابھرتے ہوئے با اثر زمیندار نوجوان نے جن کے صدر بننے کا کسی حد تک امکان تھا حضرت مولانا کی بلند پایہ شخصیت کے اعتراف میں اٹھ کر آپ کو مبارک باد پیش کی۔حضرت مولانا نے از راہ شفقت انہیں گلے لگایا اور فرمایا " مہر صاحب! آپ نے اچھی روایت قائم کی ہے۔جزاکم اللہ اس پر اس نوجوان نے کہا کہ یہ سب کچھ تو ہم نے آپ سے ہی سیکھا ہے۔صدر پاکستان محمد ایوب خان نے ملک میں ۶۰ - ۱۹۵۹ء میں بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات