حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 874 of 923

حیاتِ خالد — Page 874

حیات خالد 855 گلدستۂ سیرت کروائے۔اس وقت کی ملکی ضروریات اور حالات کے پیش نظر حضرت مولانا کو اپنی طبیعت کے خلاف قومی مفاد کی خاطر انتخابات میں حصہ لینا پڑا۔احمد نگر ہل سپرا، پٹھانے والا اور پہلو والی سیداں پر مشتمل حلقہ انتخاب میں دو نشستیں تھیں جب کہ امیدوار چار تھے۔نو عمری کے عالم میں خاکسار اور چند دوسرے دوستوں کو یہ الیکشن مہم چلانے کا موقع ملا۔ہم ہر گاؤں میں ہر اول دستہ کے طور پر پہنچ کر لوگوں کو اکٹھا کرتے۔حضرت مولانا عموماً مکرم مولوی احمد خان صاحب نسیم اور مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب کے ساتھ کبھی سائیکلوں اور کبھی تانگوں پر ایک چھوٹے لاؤڈ سپیکر سیٹ سمیت گاؤں پہنچ کر تلاوت و نظم کے بعد امیدوار کی خصوصیات اور متعلقہ امور پر ایسا روح پرور خطاب فرماتے جس سے سامعین بے حد متاثر ہوتے اور بے ساختہ تائیدی نعرے بلند کرتے۔انتخاب کے روز پولنگ سٹیشن پر ایک غیر از جماعت نابینا ووٹر لا یا گیا جسے ہر امیدوار اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرنے لگا جب کہ حضرت مولانا با وقا رطور پر تشریف فرما رہے۔پریذائیڈنگ آفیسر کے پوچھنے پر ووٹر نے بتایا کہ وہ تو مولوی صاحب کو ووٹ دینا چاہتا ہے۔الغرض حضرت مولانا کو اس انتخاب میں احمدی ووٹر ان کے علاوہ کثیر تعداد میں غیر از جماعت ووٹرز کی حمایت سے بفضلہ کامیابی حاصل ہوئی۔حکومت کی طرف سے بنیادی جمہوریتوں کے منتخب ممبران کیلئے پندرہ روزہ تربیت لازمی قرار دی گئی جس کا سنٹر بوجوہ موضع بخش والا منظور کرایا گیا جو احمد نگر سے دس بارہ کلومیٹر دور تھا اور راستہ کچا تھا۔بعض سیانوں کا خیال تھا کہ حضرت مولانا وہاں روزانہ حاضر نہ ہو کر رکنیت سے محروم ہو جائیں گے لیکن آپ ملی مفاد کی خاطر روزانہ سائیکل پر ہر وقت بخش والا جاتے اور تربیت دینے والے اساتذہ کے نوٹ باقاعدگی سے تحریر کرتے۔کلاس کے اختتام پر انچارج ٹریننگ مکرم محمد اسلم صاحب ہاشمی اور دیگر افسران نے حضرت مولانا کی فرض شناسی ، سو فیصد حاضری اور قابلیت کی دل کھول کر تعریف کی کہ حضرت مولانا نے ہم جیسے طفل مکتب لوگوں کے ساتھ جو تعاون فرمایا وہ اپنی مثال آپ ہے۔یہ آپ کی شخصیت کا اعجاز تھا کہ جماعتی اور ملکی سطح کی بلند پایہ شخصیات احمد نگر تشریف لاتی رہیں جن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سر محمد ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔انہوں نے احباب جماعت سے خطاب بھی فرمایا۔ایک مرتبہ جناب ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع جھنگ بھی احمد نگر آئے جو غالبا اس گاؤں میں کسی ڈپٹی کمشنر کا پہلا دورہ تھا۔خاکسار کے والد محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر کے ساتھ آپ کے انتہائی مخلصانہ روابط تھے۔