حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 872 of 923

حیاتِ خالد — Page 872

حیات خالد 853 گلدستۂ سیرت ربع صدی کی طویل رفاقت کی بناء پر میں علی وجہ البصیرت احمدیت پر ایمان اور یقین محکم کہ سکتا ہوں کہ حضرت مولانا کوخلافت احمد یہ سے بے پناہ عقیدت تھی اور آپ ہر دم اس کے اشاروں پر قربان ہونے کے لئے تیار رہتے تھے۔- عبد الرحیم صاحب اشرف نے حضرت مولانا سے پوچھا کہ کیا آپ واقعی احمدیت کی صداقت پر مطمئن ہیں۔گو یہ سوال اخلاص و وفا میں حضرت مولانا کے عالی مقام سے فروتر تھا مگر آپ نے بڑے تحمل سے جوا با فرمایا کہ میرے والدین نے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مجھے خدمت دین کے لئے وقف کیا پھر خدا تعالٰی نے مجھے بھی بیٹے عطا فرمائے جو اپنے اپنے رنگ میں خدمت دین پر مامور ہیں۔بھلا ایسے شخص سے بڑھ کر کون مطمئن ہو سکتا ہے؟ فالحمد للہ علی ذلک مکرم مولا نا محمد دین صاحب آف ڈیرہ غازی خان تحریر کرتے ہیں کہ جب وہ کوئٹہ میں بطور جود وسخا مربی سلسلہ متعین تھے تو حضرت مولانا چند روز کیلئے وہاں تشریف لائے۔روزانہ نماز فجر کے بعد میں پچھیں احباب سیر میں آپ کے ہمراہ ہوتے اور واپسی پر آپ سب دوستوں کی کیفے بلدیہ میں قہوہ سے تواضع فرماتے اور اصرار اور بشاشت کے ساتھ ہمیشہ خود بل ادا فرماتے۔اسی طرح آپ نے اپنے اہل وعیال سمیت گرمیوں میں چند روز کیلئے ایک مرتبہ کوٹلی آزاد کشمیر ) میں قیام فرمایا۔آپ عموماً آٹھ دس روز بعد ایک یا دو بکرے خرید کر ذبح کرواتے۔کچھ گوشت احباب کو تحفہ بھجواتے اور کچھ احباب کو اپنی حالت مسافری کے باوجود کھانے پر مدعو فرما لیتے۔ایسے مواقع پر آپ کے مبارک چہرہ سے عیاں بشاشت نا قابل فراموش ہے۔اپنے پاک نمونہ کے ساتھ آپ مجھے نصیحت فرمایا کرتے کہ مہمان نوازی اللہ کے ہاں بہت مقبول ہے۔اسے کبھی فراموش نہ کرنا اور اس سلسلہ میں انبیاء علیہم السلام کی مثالوں سے آپ اپنی نصائح کو مرصع فرماتے۔مولا نا محمد دین صاحب مربی سلسلہ مرحوم تحریر کرتے ہیں کہ وہ ڈیرہ غازی خان جیسے پسماندہ اور غریب علاقہ سے احمد نگر آ کر جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔حد درجہ تنگی کا یہ دور طالب علمی استاذی المکرم کی مہر بانیوں سے بالآخر گذر گیا۔مگر آپ نے میری اہلیہ اور بچوں پر پیہم شفقتوں اور عنایات کا سلسلہ تا دم آخر جاری رکھا۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند سے بلند تر فرماتا رہے۔آمین حضرت مولانا کے ایک شاگرد مکرم ناصر احمد صاحب ظفر بلوچ نے قیام پاکستان کے معاً بعد ۱۹۴۸ء میں احمد نگر میں جامعہ احمدیہ کے قیام کے ابتدائی مشکل بلکہ دل شکن حالات کا تذکرہ کرتے 0