حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 862 of 923

حیاتِ خالد — Page 862

حیات خالد 843 گلدستۂ سیرت کام میرے سپرد کیا جو میں نے بخوشی کر دیا۔جب تقریر کرنے کے بعد گھر تشریف لائے اور سب نے شاندار تقریر کرنے پر مبارکباد دی اس وقت آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ جب میں حوالہ جات پڑھ رہا تھا تو مجھے تمہارا خیال آرہا تھا کہ یہ سب تم نے لکھ کر دیئے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اس وجہ سے بعد میں میرے لئے دعا بھی ضرور کی ہوگی۔مجھے ان سے براہ راست پڑھنے کا بھی موقعہ ملا ہے۔وہ اس طرح سے کہ ایم۔اے کے امتحان سے چھ ماہ قبل میرے ابا جان کی وفات ہو گئی اور میں کئی دن کالج نہ جاسکی۔میں پریشان تھی کہ اتنے دنوں کی پڑھائی کے نقصان کی تلافی کیسے ہوگی۔میری امی جان نے میری پریشانی کا ذکر کیا جب خالو جان کو پتہ لگا تو باوجود اپنی مصروفیت کے فرمایا کہ مجھ سے آ کر پڑھ لے۔چنانچہ میں نے عربی کی چند نظموں کا ترجمہ آپ سے پڑھا۔مجھے یاد ہے کہ ایک روز آپ نے کسی بات کی تشریح کرتے ہوئے عربی کا یہ مقولہ بھی مجھے بتایا تھا کہ الكلاب تنبح والقوافل تسیر دشمن مخالفت کرتے رہتے ہیں اور الہی جماعتیں ترقی کرتی چلی جاتی ہیں۔آپ بہت زندہ دل تھے روزانہ فجر کی نماز کے بعد دوستوں کے ساتھ سیر کو جاتے۔راستہ میں ہر قسم کی گفتگو ہوتی۔دینی اور علمی بھی اور ہلکے پھلکے مزاح والی بھی۔آپ با وجود بے حد مصروف ہونے کے سب کی خوشیوں میں بھی شامل ہوتے۔وفات سے دو روز قبل نماز عصر کے بعد ہمارے محلہ دارالرحمت وسطی میں ہمارے گھر کے سامنے میدان میں میچ ہورہا تھا۔محلہ والوں کی دعوت پر میچ دیکھنے گئے۔کافی دیر بیٹھے۔اس موقعہ پر کسی نے آپ کی تصویر بھی لی۔جو وفات کے بعد ملی۔کسے معلوم تھا کہ یہ ان کی زندگی کی آخری تصویر ہوگی۔میچ سے واپس آئے اور گھر آ کر صحن میں بستر پر لیٹ گئے۔محترمہ خالہ جان کسی کے ہاں عیادت کے لئے گئی ہوئی تھیں اور میں قریب ہی ایک چار پائی پر بیٹھی سبزی بنا رہی تھی۔خالو جان نے ہمیشہ مصروف زندگی گزاری۔ہر وقت کوئی نہ کوئی لکھنے پڑھنے کا کام کرتے رہتے۔فارغ بالکل نہ رہے اور نہ ہی بلا ضرورت لمبی باتیں کرتے مگر اس دن خلاف معمول آپ نے مجھ سے کافی باتیں کیں۔کئی پرانے واقعات بتاتے رہے۔میں خوش بھی تھی کہ آپ مجھ سے بے تکلفی سے اتنی دیر سے باتیں کر رہے ہیں اور مجھے حیرت بھی تھی کہ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔آج کیا بات ہے۔کسے معلوم تھا کہ یہ ان کی الوداعی باتیں ہیں جو بعد میں ہمیشہ یاد آتی رہیں گی۔اس وقت میں تصور بھی نہ کر سکتی تھی کہ پرسوں وہ ہم میں نہیں ہونگے۔جب بھی کوئی واقف کار شخص فوت ہوتا تو آپ کی کوشش ہوتی کہ