حیاتِ خالد — Page 861
حیات خالد 842 گلدستۂ سیرت اور ایک ایک عطر کی شیشی لائے اور مجھے تحفہ دیتے ہوئے فرمایا کہ تم عید پر ہمیشہ مختلف چیزیں تحفہ دیتی ہو اس لئے میں نے سوچا کہ اس دفعہ تمہیں بھی نقدی کی بجائے کوئی تحفہ خرید کر دوں۔آپ کو ہمیشہ تربیت کا خیال رہتا اور رسموں سے اجتناب فرماتے۔یہ رسوم سے اجتناب ۱۹۷۷ء کی بات ہے۔جس سال کہ آپ کی وفات ہوئی خالو جان کا ٹرانزسٹر ریڈیو خراب تھا اور خبریں سننے میں کافی وقت ہوتی تھی اس لئے میں نے کسی سے کہہ کر آپ کے لئے ریڈیو منگوایا اور آپ کو پیش کیا۔آپ بہت خوش ہوئے مگر فورا ہی فرمایا کہ یہ سالگرہ کے تحفہ کے طور پر تو نہیں دے رہی؟ کیونکہ اس دن ۱۴ را پریل تھی جو آپ کا یوم پیدائش ہے۔میں نے بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے تو کافی دنوں سے کہا ہوا تھا اتفاقاً آج ہی ملا ہے اس لئے آج دے رہی ہوں۔اس پر بہت خوش ہو کر قبول فرمایا اور جو تقلیل عرصہ استعمال فرمایا اس دوران کئی دفعہ خوشی کا اظہار فرمایا کہ اب خبریں سننے کا آرام ہو گیا ہے اور یہ ان کی عادت تھی کہ جب بھی کوئی ان کی ذراسی بھی خدمت کرتا تو اسے بہت سراہتے اور خوشی کا اظہار فرماتے۔خالو جان ہمارا ہر طرح سے بہت خیال رکھتے تھے۔ربوہ میں میں جامعہ نصرت پڑھانے جاتی تھی اور دونوں بچیاں سکول جاتی تھیں۔سکول اور کالج ساتھ ساتھ تھے اور درمیانی دیوار میں آنے جانے کے لئے راستہ تھا۔گرمیوں کا موسم شروع ہوتا تو اس خیال سے کہ گرمی میں ہمیں گھر آنے میں تکلیف نہ ہو۔دفتر سے واپسی پر خود ٹانگہ میں کالج تشریف لاتے۔بیٹیاں چھٹی ہونے پر پہلے ہی میرے پاس آ چکی ہوتیں۔پھر ہم تینوں کو اپنے ساتھ لے کر گھر جاتے۔ہر سال گرمیوں میں یہی معمول رہا۔یہ ان کی بڑی خوبی تھی کہ جو بھی اچھی بات دیکھتے اس کی کھلے دل سے تعریف کرتے۔جس سے اس شخص کا دل خوش ہو جاتا۔کھانا تو روزانہ ہی گھر میں پکاتی تھی۔جب بھی کوئی چیز خاص پسند آتی تو اس کی بار بار تعریف کرتے اور کئی دفعہ ایسا ہوا کہ دوسروں کو بھی سیکھنے کو کہا۔یہ ان کی شفقت ہی تھی کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو سراہتے اور حوصلہ افزائی فرماتے۔یہ لکھتے ہوئے اسی قسم کا حوصلہ افزائی اور قدر دانی کا ایک اور واقعہ مجھے یاد آ گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری شادی ۱۹۶۷ء میں جلسہ سالانہ سے ایک ہفتہ قبل ہوئی۔اس سال جلسہ سالانہ بعض وجوہ سے جنوری کے آخری عشرہ میں ہوا تھا ) ان دنوں خالو جان بہت مصروف تھے اور تقریر لکھنے کا کام بھی ابھی باقی تھا۔میں نے ان سے کہا کہ اگر کوئی خدمت میر بے لائق ہو تو مجھے بتائیں اس پر انہوں نے تقریر کے لئے حوالہ جات علیحدہ علیحدہ کاغذوں پر لکھنے کا