حیاتِ خالد — Page 863
حیات خالد 844 گلدستۂ سیرت اذْكُرُوا مَوْتَاكُم بِالْخَيْرِ کے تحت اس کے بارہ میں کچھ لکھیں۔چنانچہ وفات سے چند روز قبل بھی آپ ایسا ہی ایک مضمون لکھنا چاہتے تھے مگر طبیعت کی کمزوری کے باعث خود لکھنے کی طرف طبیعت مائل نہ ہوئی اور یہ سعادت خاکسار کو لی کہ آپ مضمون لکھواتے جاتے تھے اور میں لکھتی جاتی تھی۔یہ مضمون آپ کی وفات کے بعد الفضل میں شائع ہوا۔مولانا کو خواب میں دیکھا 0 کرم لئیق احمد عابد صاحب نائب وکیل المال اول تحریک جدید تحریر فرماتے ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی وفات کے چند ماہ بعد کی بات ہے کہ میں نے انہیں خواب میں دیکھا اور مجھے سو فیصد یقین تھا کہ حضرت مولوی صاحب اللہ تعالیٰ کے پاس سے آئے ہیں۔میرے بڑے بھائی مکرم انہیں احمد صاحب ان دنوں عرق النساء کی تکلیف میں مبتلا تھے اور بہت درد کی شکایت کیا کرتے تھے۔میں نے حضرت مولوی صاحب سے عرض کیا کہ جب آپ واپس اللہ میاں کے پاس جائیں تو میرے بھائی کی صحت کے لئے اللہ میاں سے عرض کر دیں کہ اللہ میرے بھائی کو شفا دے دے۔اس پر مولوی صاحب نے فرمایا، کوئی قلم لاؤ میں تمہیں نسخہ لکھ دوں۔میں نے دیکھا تو مولوی صاحب کی قمیض کی جیب میں کالے رنگ کا ایک قلم تھا۔میں نے کہا کہ قلم تو آپ کی جیب میں ہے۔لیکن آپ نے فرمایا تم قلم لاؤ میں نے پھر اصرار کیا کہ قلم تو آپ کے پاس ہے تو فرمایا سمجھا بھی کرو۔تم قلم لاؤ یہ تو اللہ میاں کا قلم ہے۔میں نے کہا پھر تو اسی سے نسخہ لکھ کر دیں۔چنانچہ انہوں نے اس قلم سے جس کی روشنائی سرخ تھی مجھے ایک بائیو کیمک نسخہ لکھ کر دیا۔پھر میری آنکھ کھل گئی۔جس رات حضرت مولوی صاحب فوت ہوئے ہیں میں نے اس رات خواب میں دیکھا کہ میرے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔صبح مولوی صاحب کی وفات کی اطلاع ملی۔دراصل حضرت مولوی صاحب کا مجھ سے پدرانہ تعلق تھا۔اور خواب میں یہی بات مجھے نظر آئی۔کر مدامت البر احمد مکرمہ امته الواسع ولید صاحبہ اہلیہ مکرم ولید احمد صاحب سابق نائب اقرباء سے حسن سلوک مصدر خدام الاحمد علیکم برطانیہ سے کھتی ہیں :- جلنگھ یہ ہیں:۔ہمارے بڑے ابا جان ایسی ہستی تھے جن کی ذات کے متعلق پیار کا لفظ ہی ہے جو ان کی شخصیت کا تعارف ہے۔چونکہ مجھے ان کی سب سے بڑی ہوتی ہونے کا شرف حاصل ہے اور چودہ سال کی عمر تک بڑے ابا جان کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور ان سے اتنا پیار پایا کہ لگتا ہے کہ کوئی دادا اپنے پوتے۔