حیاتِ خالد — Page 860
حیات خالد 841 گلدسته سیرت آئے۔میں نے چق میں سے دیکھ لیا اور انہیں منع کیا اور اس کے بعد میں ساری دو پہر اس کا دھیان رکھتا رہا ہوں کہ کوئی بچہ اسے نقصان نہ پہنچائے۔ی وقفہ فرمایا کہ اللہ تعالی میں بیٹا بھی دے گا اور تم باہر بھی جاؤ گی۔ایک دفعہ جب کہ راشد صاحب جاپان میں تھے۔مجھے مع تینوں بچیوں کے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث سے ملاقات کروانے لے گئے۔دوران ملاقات حضور نے بچوں کا دریافت فرمایا تو عرض کیا یہ تین بچیاں ہیں نیز بیٹے کیلئے دعا کی درخواست کی۔اس پر حضور نے فرمایا کہ بیٹا انشاء اللہ جاپانی ہوگا۔چنانچہ اللہ نے جاپان جانے کے بھی سامان کر دیئے اور وہیں بیٹا عزیزم عطاء المنعم بھی عطا فر مایا۔الحمد للہ۔فرمایا آپ اپنے سب بچوں اور اولاد نافلہ سے بہت محبت کا سلوک فرماتے اور ہر ایک یہی سمجھتا کہ اس سے ہی زیادہ محبت ہے اور یہی احساس مجھے بھی ہے۔آپ کی اپنے بچوں کے ساتھ یہ عادت نہ تھی کہ چھوٹے بچے کو اپنے ساتھ کسی شادی میں یا بازار وغیرہ لے جاتے یا اپنے ساتھ اپنے بستر پر سلاتے۔کیونکہ پیشاب وغیرہ کر دینے کی صورت میں ناپاک ہو جانے کا خطرہ تھا۔لیکن میرا اپنا خیال ہے کہ غالباً راشد صاحب کے پاکستان نہ ہونے کی وجہ سے میری بچیوں کا بہت ہی خیال رکھتے۔ایک بار میری بڑی بیٹی عزیزہ عطیہ صادقہ کو ایک شادی میں اپنے ساتھ لے گئے۔اسی طرح چند ایک دفعہ دونوں بڑی بیٹیوں کو بازار بھی لے گئے اور گولیاں، ٹافیاں وغیرہ خرید کر دیں۔چھوٹی بیٹی عزیز و ساجد و کو کئی بار اپنے ساتھ سلالیتے۔وفات سے دو دن پہلے بھی دو پہر کو اپنے ساتھ بستر پر لٹا لیا۔وہ سوگئی تو پیشاب کے خیال سے خالہ جان نے اسے وہاں سے اٹھا کر دوسرے بستر پر لٹانا چاہا تو آپ نے فرمایا اسے یہیں سونے دیں اور نیچے پلاسٹک ڈال دیں۔چنانچہ وہ وہیں سوتی رہی۔رات کے وقت بعض دفعہ دونوں بڑی دیلیوں عزیز و علیہ اور عزیزہ بشری کو سمن میں اپنے ارد گرد اپنے دونوں بازؤوں کا تکیہ بنا کر لٹا لیتے اور اچھی اچھی باتیں سناتے۔بچیوں کو بھی اپنے بڑے ابا جان سے بہت پیار تھا۔وہ بھی رات کو اکثر ان کی ٹانگیں اور بازو د باتیں۔عزیزہ عطیہ تو بانس پکڑ کر اس کے سہارے کھڑی ہو کر آپ کی ٹانگیں دہاتی۔آپ فرماتے کہ اس کا وزن بالکل صحیح ہے نہ کم نہ زیادہ اس لئے اس کے دبانے سے بہت مزا آتا ہے۔آپ عید کے موقعہ پر ہمیشہ سب افراد خانہ کو عیدی نقدی کی صورت میں دیتے۔ایک عید کے موقعہ پر دونوں بڑی بیٹیوں عزیزہ عطیہ اور عزیزہ بشری کو اپنے ساتھ رحمت بازار لے گئے۔انہیں بھی گولیاں ، ٹافیاں وغیرہ خرید کر دیں اور میرے اور اپنی دو بیٹیوں کے لئے جو اس وقت پاس تھیں ایک ایک رومال