حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 859 of 923

حیاتِ خالد — Page 859

3۔حیات خالد خرید لی۔840 گلدستۂ سیرت آپ بہت خوش مزاج تھے اور وقت نکال کر افراد خانہ کے ساتھ گھل مل کر ان کی خوشیوں میں شریک ہوتے تھے۔ایک دن فرمانے لگے کہ آؤ بارہ ٹہنی کھیلیں۔چنانچہ گھر میں موجود افراد سے باری باری کھیلتے رہے۔اور ہر ایک کے مقابلہ میں آپ کی ہی جیت ہوئی۔اتفاق ایسا ہوا کہ جب میں کھیلی تو جیت گئی۔فرمانے لگے کہ چلو دوبارہ کھیلو۔اب کی دفعہ جیت میری ہوگی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔میں اکثر آپ سے دعا کی درخواست کرتی رہتی تھی ایک دن فرمانے لگے کہ تمہیں کہنے کی ضرورت نہیں۔میں دعا سب کے لئے کرتا ہوں۔میں نے عرض کی کہ درخواست کرنا تو ہمارا فرض ہے۔فرمایا کہ تسلی رکھو میں تم سب کے لئے ایک ایک کا نام لیکر با قاعدہ دعا کرتا ہوں۔خدا تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کی سب دعا ئیں ہمارے حق میں بہترین رنگ میں پوری فرمائے۔چونکہ میرے میاں عطاء المجیب صاحب راشد پہلے انگلستان اور پھر جاپان تبلیغ کے سلسلہ میں کافی عرصہ باہر رہے اور ہم اس دوران ربوہ میں آپ کے پاس ہی رہے۔اس وجہ سے بھی محترم خالو جان ہمارے بچوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔تینوں بچیاں بھی ان سے بہت پیار کرتی تھیں۔ہماری بیٹی عزیزہ بشری جس کی پیدائش راشد صاحب کے لندن جانے کے بعد ہوئی تھی، آپ سے بہت ہی پیار کرتی تھی۔آپ دفتر سے گھر پہنچتے تو فورا اپنی توتلی زبان میں کہتی ” بڑے ابا جان سیر میں اسے سمجھاتی بھی کہ آتے ہی ایسے نہ کہا کرو۔مگر ابھی بہت چھوٹی تھی اس لئے پھر بھی کبھی کبھی کہہ دیتی اور محترم خالو جان بھی فوراً اسے اٹھا کر گھر کے سامنے تھوڑ اسا چکر لگوا لاتے اور کبھی برا نہ مناتے۔گرمیوں کے موسم میں رات کو سب صحن میں سوتے کبھی اس دوران کسی بچی کو پیٹ درد یا کوئی اور تکلیف ہوتی اور رونے لگتی۔میں اسے اٹھا کر پھرنے لگتی تا کہ جلد سو جائے اور کسی کو تکلیف نہ ہولیکن اگر سکبھی کچھ دیر تک چپ نہ ہوتی تو خالو جان اٹھ کر آ جاتے اسے گود میں لے لیتے۔کبھی نیچے صحن میں ٹہلتے اور کبھی او پر بالا خانہ کے صحن میں لے جاتے۔ساتھ ساتھ دعائیں پڑھ پڑھ کر دم بھی کرتے رہتے حتی کہ بچی سو جاتی۔گرمیوں کے موسم کی ہی بات ہے کہ ایک دفعہ عصر کے وقت جب دو پہر قیلولہ کرنے کے بعد کمرہ سے باہر آئے تو مجھے بتایا کہ عزیزہ بشری باہر کھیل رہی تھی اور چھوٹے چھوٹے پتھر اٹھا کر ادھر ادھر پھینک رہی تھی۔ایک پتھر کسی بچہ کو لگ گیا۔تو سب دوسرے بچے جو باہر کھیل رہے تھے مل کر اسے مارنے