حیاتِ خالد — Page 765
حیات خالد 754 گلدستۂ سیرت اور شلوار پہنے اور ہاتھ میں سوئی پکڑے ربوہ میں قصر خلافت کی طرف تشریف لا رہے ہیں۔خاکسار قصر خلافت کے باہر کھڑا ہے۔حضرت مولوی صاحب کی بہت عمدہ صحت ہے۔چہرہ پر مسکراہٹ ہے۔خاکسار حضرت مولوی صاحب کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔میں نے آگے بڑھ کر حضرت مولوی صاحب سے مصافحہ اور معانقہ کیا۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب قصر خلافت کے اندر تشریف لے گئے ہیں۔پھر تھوڑی دیر کے بعد دیکھا کہ وہاں سے واپس تشریف لا رہے ہیں اور فرماتے ہیں میں عطاء المہیب کو ملنے جا رہا ہوں۔کچھ فاصلہ پر ایک مکان ہے جو دو منزلہ ہے۔اس کے صحن میں حضرت مولوی صاحب داخل ہوتے ہیں۔عطاء الجیب صاحب بھی اوپر والی منزل سے اتر کر حضرت مولوی صاحب کو ملنے آرہے ہیں۔آپ کے کچھ اور عزیز بھی حضرت مولوی صاحب سے ملاقات کر رہے ہیں۔اتنے میں آپ کے کوئی عزیز کہتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب کے بھائی کو بھی بلا لیں تا کہ وہ بھی مل لیں لیکن حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں میرے پاس اب مزید وقت نہیں۔اب میں واپس جا رہا ہوں کیونکہ گیٹ بند ہونے والا ہے اور میں تو صرف نصف گھنٹہ کی چھٹی لے کر آیا تھا۔اس کے بعد حضرت مولوی صاحب تیزی سے واپس چلے جاتے ہیں۔پھر میری آنکھ کھل گئی۔مکرم خواجہ عبد المؤمن صاحب کہتے ہیں۔مجھے تو یہ خواب جماعتی لحاظ سے بہت مبارک معلوم ہوتی ہے خدا کرے کہ یہ خواب انفرادی لحاظ سے اور جماعتی لحاظ سے ساری جماعت کے لئے بابرکت ثابت ہو۔آمین۔مکرم منشی نورالدین صاحب جنہوں نے حضرت مولانا کے رسالے الفرقان کی سالہا سال کتابت کا فریضہ ادا کیا لکھتے ہیں :- خاکسار نے ایک دن مولانا مرحوم کے صاحبزادے مکرم عطاء الحجیب صاحب را شد کو جاپان خطے لکھنے کا اردہ کیا اور مولانا مرحوم کے گھر گیا تا کہ حضرت مولانا کی بیگم صاحبہ سے عطاء المجیب راشد صاحب کا پتہ حاصل کر کے خط لکھوں۔میں بیٹھک میں بیٹھا تھا کہ سامنے حضرت مولانا کی تصویر پر نظر پڑی۔بس پھر کیا تھا مجھے پر رقت کا عالم طاری ہو گیا اور مولانا مرحوم کے فراق میں خوب رویا۔اس کے بعد میری عادت ہو گئی کہ میں حضرت مولانا کے لئے بلا ناغہ مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرنے لگا۔ایک رات خواب میں حضرت مولانا سے ملاقات ہوئی۔مولانا نے فرمایا۔میں تمہاری دعاؤں کا بہت ممنون ہوں“۔