حیاتِ خالد — Page 766
حیات خالد 755 گلدسته سیرت حضرت بابو قاسم الدین صاحب مرحوم سابق امیر جماعت احمد یہ سیالکوٹ۔آپ نے ۱۹۰۴ء میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔آپ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے بہت قریبی اور دلی محبت اور دوست تھے۔آپ نے حضرت مولانا کو خواب میں جس طرح دیکھا وہ نہایت ایمان افروز ہے۔آپ لکھتے ہیں :- وو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب خالد احمدیت، احمدیت کے فتح نصیب جرنیل، عالم باعمل، میرے بڑے پیارے دوست تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔وفات کے بعد آپ مجھے تین دفعہ خواب میں ملے۔(1) وفات کے چند دن بعد میں نے آپ کا رہائشی مکان جنت الفردوس میں دیکھا۔مکان نہایت عالی شان اور خوبصورت بنا ہوا ہے۔آگے برآمدہ ہے برآمدہ کی چکیں نہایت اچھی بنی ہوئی ہیں۔دل کش ہیں اور مکان Well Furnished ( ساز وسامان سے آراستہ ) ہے۔(۲) ایک دفعہ میں نے مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس کو خواب میں دیکھا کہ آپ ایک عدالت کے باہرا کیلے کھڑے ہیں جیسے وہاں کوئی گواہی دینے کے لئے آئے ہیں۔میں نے ان کو جا کر کہا کہ میرے دفتر میں آکر بیٹھ جائیں۔جب عدالت سے آواز آئے گی تو چلے جائیں۔چنانچہ وہ میرے دفتر میں آگئے۔پھر کیا دیکھتا ہوں کہ مکرم مولانا ابو العطاء صاحب ایک افسر کے سامنے درخواستیں پیش کرنے پر مامور ہیں۔ان میں سے ایک میری بھی درخواست ہے۔میں نے ان کو کہا کہ بار بار تاریخیں پڑتی ہیں۔اب یکم اپریل مقرر ہوئی ہے سال کوئی نہیں۔آپ نے فرمایا۔آپ چپ رہیں آپ کو اس کا علم نہیں ہے۔میں خاموش ہو گیا۔اس کے بعد آپ اور مولانا جلال الدین شمس صاحب اکٹھے آگئے۔مولانا ابو العطاء صاحب نے فرمایا کہ بابو صاحب چائے کون پلائے گا میں نے کہا میں پلاتا ہوں۔آپ نے دریافت کیا پیسے کون دے گا۔میں نے عرض کیا کہ میں دوں گا۔چنانچہ آپ اور مولانا شمس صاحب دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔اتنے میں میرے بزرگ دوست حکیم سید پیر احمد شاہ صاحب ( صحابی ۱۹۰۵ء) بھی آگئے۔میں ان کے لئے ایک کرسی لایا اور وہ دونوں کے درمیان کرسی پر چائے پینے کے لئے بیٹھ گئے۔(۳) چند دن ہوئے میں نے دیکھا کہ آپ ہمارے مکان پر تشریف لائے ہیں اور بیٹھک میں ایک چار پائی پر بیٹھ گئے۔سر پر بڑی پگڑی باندھی ہوئی ہے پھر وہاں سے اٹھ کر دوسری چار پائی پر آگئے