حیاتِ خالد — Page 760
حیات خالد 749 جامعہ احمدیہ آپ کی قیادت میں ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا۔محترم مولانا محمد اسماعیل منیر صاحب لکھتے ہیں :- گلدستۂ سیرت 7) ۱۹۴۷ء میں ہندو پاکستان کی تقسیم ہونے پر جماعت احمد یہ کیلئے بھی ایک پُر آشوب پر آشوب دور دور شروع ہوا جس میں ہم طالب علموں کو قادیان اور قادیان کے ارد گرد رہنے والوں کی حفاظت کی خاطر دن رات ڈیوٹیاں دینی پڑیں۔نومبر ۱۹۴۷ء میں ہم سب طالب علم لاہور پہنچے جہاں سابقہ ڈی اے وی کالج کی عمارت میں ہمیں پناہ دی گئی۔مگر چند دنوں کے بعد ہی ہمیں وہاں سے ہجرت کر کے چنیوٹ آنے کا حکم ہوا۔وہاں کی عمارتیں کلاسوں اور رہائش کے لئے ناکافی ثابت ہونے پر جنوری ۱۹۴۸ء میں جامعہ احمدیہ کو احمدنگر منتقل کر دیا گیا۔وہاں پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی قیادت میں جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کئی سال تک پھلتا پھولتا رہا۔وہاں پر رہ کر ہی ہم نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور پھر جامعہ احمد یہ احمد نگر ہے ۱۹۵۰ء میں آخری مبلغین کلاس سے پاس ہونے والے تین طالب علموں میں یہ عاجز بھی شامل تھا۔اس دور کی مشکلات بھی نئی اور عجیب تھیں۔پڑھنے کے لئے کتب اور لائبریری نا پید تھی۔ذرا بارش کا دورانیہ لمبا ہو گیا تو کلاسیں بھی بند اور پھر کھانے کے لئے گندم اور چاول دوسرے اضلاع سے امپورٹ کرتے کرتے تھک گئے تو ۲۰ فروری ۱۹۴۸ء کو جامعہ احمدیہ میں تعطیلات کر کے ہی ان مسائل کا حل تلاش کیا گیا۔یہ تعطیلات حالات کی ناموافقت کے باعث ستمبر اکتوبر تک لمبی ہو گئیں۔تا ہم حضرت مولانا کی فراخ دلی ، خوش دلی ، محبت اور دعاؤں سے ہم نے اس زمانہ میں تعلیم کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ مولوی فاضل کے امتحان میں اعلیٰ نتائج بھی ہمیں حاصل ہوتے رہے۔حضرت مولانا کے تعلقات کی وجہ سے آئے دن جامعہ کے وسیع صحن میں مہمانوں کی پارٹیاں ہوتی رہتیں۔ان عظیم مہمانوں میں حضرت مولانا نذیر احمد صاحب علی مبلغ سیرالیون اور انڈونیشیا وغیرہ ممالک کے مشہور مبلغ حضرت مولانا رحمت علی صاحب جیسی عظیم شخصیات شامل تھیں جن کی ایمان افروز اور دلچسپ باتوں کو سن کر ہم طلباء کے خون بھی جوش مارتے تھے اور ہم یہ عہد کرتے تھے کہ ہم ان عظیم المرتبت بزرگوں کے نقوش پا کبھی ملنے نہ دیں گے۔حضرت مولانا کے شاگر دمحترم مولانا محمد صدیق صاحب گورداسپوری لکھتے ہیں۔۱۹۵۰ء میں ہلاکت خیز طوفان دریائے چناب میں آیا اور ربوہ اور احمد نگر کے درمیان سٹرک اور ریلوے لائن کٹ گئی۔ہر طرف پانی ہی پانی تھا اور ہو کا عالم تھا۔احمد نگر کا ایک حصہ پانی کی زد میں آکرگر