حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 761 of 923

حیاتِ خالد — Page 761

حیات خالد 750 گلدسته سیرت گیا۔چونکہ اس وقت جامعہ احمدیہ ابھی احمد نگر میں تھا جس کے پرنسپل حضرت مولانا صاحب تھے اس لئے سیلاب کا پانی آجانے سے حضرت مصلح موعودؓ کو احمد نگر میں بسنے والے احمدیوں اور جامعہ کے طالب علموں کی فکر لاحق ہوئی۔حضور نے امور عامہ کو ارشاد فرمایا کہ کسی کو احمد عمر بھیج کر خبر لی جائے کہ وہاں پر جامعہ احمدیہ کے اساتذہ اور طلباء کا کیا حال ہے؟ چنانچہ اس غرض کے لئے خاکسار، مولوی محمد دین صاحب اور غالبا جامعتہ المشرین کے ایک اور طالب علم کو چنا گیا اور ہمیں ارشاد ہوا کہ شام سے قبل واپس آکر رپورٹ کریں کہ احمد نگر کا کیا حال ہے اور وہاں کے احمدی اور اساتذہ و طلباء کس حال میں ہیں۔ہم پہاڑی کے پیچھے جا کر پانی میں داخل ہوئے اور تیرنا شروع کیا لیکن پانی کا زور اتنا تھا کہ وہ ہمیں آہستہ آہستہ سڑک پر لے آیا۔وہاں درختوں کو پکڑ کر ہم کچھ دیر کے اور طاقت بحال کی پھر چونکہ ہم پانی کے تیز بہاؤ سے نکل آئے تھے لہذا تیرتے ہوئے احمد نگر پہنچ گئے۔چاروں طرف پانی ہی پانی تھا اور کئی مکانات گر چکے تھے۔ہم پانی سے گزرتے ہوئے گاؤں میں داخل ہوئے تو پتہ چلا کہ جامعہ احمدیہ کے اساتذہ و طلباء اور دیگر احمدی بھی احمد یہ مسجد میں جمع ہیں۔جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی سرگردگی میں سب دوست وہاں بیٹھے بڑے مزے سے انگور کھا رہے ہیں۔ہمیں دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ دیکھیں باوجود اس کے کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہے خدا تعالی نے ہمیں ایسے موقع پر بھی انگور عطا فرمائے ہیں۔آپ بھی خدا تعالی کی اس نعمت سے لطف اندوز ہوں۔پھر جب ہم نے حضرت مصلح موعودؓ کی ان کے بارے میں تشویش اور فکر کے بارہ میں بتایا تو سب ہی اپنے پیارے آقا کی اس شفقت اور محبت پہ قربان ہوئے جارہے تھے کہ کس طرح مشفق آقا کو اپنے خدام کا خیال ہے اور جب تک ان کی خیریت کی خبر نہیں ملے گی حضور کو چین نہیں آئے گا۔یہ حقیقت ہے کہ ایسے نظارے منظم روحانی جماعتوں میں ہی نظر آتے ہیں۔ورنہ وہاں اور بھی بہت سے لوگ تھے جن کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔کسی کو پرواہ نہیں تھی کہ بندگان خدا کے ساتھ کیا گذر رہی ہے۔مگر جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا اور خلیفہ برحق بے چین تھے کہ ان کے خدام اور روحانی بیٹے معلوم نہیں کس حال میں ہیں۔مگر دوسری طرف وہ خدام ان نامساعد حالات میں بھی خدائی تائید و نصرت کا شکر ادا کر رہے تھے اور ہشاش بشاش تھے۔کچھ دیر کے بعد ہم واپس روانہ ہوئے۔اب پانی کے زور نے ہمیں ریلوے لائن تک جا پھینکا۔وہاں سے ریلوے لائن کے گارڈر پکڑ کر ہم شام تک واپس ربوہ پہنچ گئے اور حضور کی خدمت میں خیریت