حیاتِ خالد — Page 706
حیات خالد 695 گلدستۂ سیرت ربوہ میں جب آپ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تو گھر میں سب بچوں کو جگا کر جاتے تھے نماز تہجد آپ باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے کراچی میں جب بھی آپ تشریف لاتے میرے پاس قیام کیا کرتے تھے جماعتی کاموں سے فارغ ہو کر گھر خواہ رات کو دیر سے بھی پہنچتے آپ نماز تہجد کے لئے باقاعدگی سے وقت پر اٹھ جایا کرتے تھے اور سفر کے دوران بھی کوشش فرماتے تھے کہ نماز با جماعت ادا ہو جائے اور یہ توفیق اللہ تعالیٰ عطاء کر دیا کرتا تھا۔روزانہ تلاوت کلام پاک بڑے شغف اور انہماک سے فرمایا کرتے تھے۔فریضہ حج کے لئے آپ نے بلاد عربیہ کے قیام کے دوران بڑی کوشش کی تھی مگر حکومت کی طرف سے ویزا نہ ملنے کے باعث اس سے محروم رہے اس بات کا آپ کو بہت قلق تھا اس کا ذکر انہوں نے کئی دفعہ کیا تھا کہ اگر ویزامل جاتا تو یہ فریضہ بھی ادا ہو جاتا۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ تھا اور آپ مقبول الدعوات تھے۔مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب لکھتے ہیں :۔ایک مرتبہ آپ مسجد مبارک میں نماز ادا کرنے کے لئے پیدل تشریف لے جا رہے تھے۔میرے پاس سائیکل تھی اور میں بھی مسجد ہی کی طرف جارہا تھا۔میں آپ کو جاتا دیکھ کر احتر انا سائیکل سے اتر پڑا اور آپ کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے آپ کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیا۔تھوڑی دیر تک آپ نے میری باتوں کا جواب دیا پھر فرمانے لگے " آپ کے پاس سائیکل ہے آپ اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔چنانچہ میں سائیکل پر سوار ہو گیا۔اس دوران میں نے محسوس کیا کہ آپ نے مجھے اس لئے روانہ کیا تا کہ مسجد جاتے ہوئے ذکر الہی میں خلل نہ پڑے اور آپ علیحدگی میں جاتے ہوئے ذکر الہی کا مزا پا سکیں۔محترم ملک محمد احمد صاحب سابق نائب وکیل تعمیل و تنفیذ تحریک جدید رقم فرماتے ہیں :- حضرت مولا نا محلہ دارالرحمت وسطی ربوہ کی مسجد میں امامت بھی فرماتے رہے۔آپ وقت سے پہلے تشریف لے آتے تھے اور ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے۔0 آپ تانگے پر دفتر اور مسجد مبارک آیا جایا کرتے تھے۔کئی مرتبہ آپ نے تانگہ روک کر مجھے بھی ساتھ بٹھایا۔میں نے دیکھا کہ آپ راستہ میں ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے اور بہت کم کوئی بات کرتے تھے۔اسی طرح کئی مواقع پر میں نے انہیں تانگہ روک کر کسی کو ساتھ بٹھاتے دیکھا۔