حیاتِ خالد — Page 707
حیات خالد 0 0 696 محترم حکیم حفیظ الرحمن صاحب سنوری لکھتے ہیں :- گلدستۂ سیرت " حضرت مولانا تقومی اور طہارت پر ختی سے کاربند رہتے اور ہمیشہ با وضور رہتے"۔محترم مرز اعطاء الرحمن صاحب مرحوم ابن حضرت مرزا برکت علی صاحب لکھتے ہیں :- آپ بہت التزام سے مساجد میں پانچ وقت حاضر ہو کر نمازوں کی ادائیگی کرتے تھے اور دوسری عبادات بہت شوق اور ولولہ سے ادا کرتے تھے۔اس لحاظ سے جہاں آپ اپنے شاگردوں کے لئے قابل تقلید نمونہ تھے وہاں آپ کا وجود ہر فرد جماعت کیلئے بھی ایک مثال تھا۔0 محترم مولوی عبد المنان صاحب شاہد مرحوم مربی سلسلہ نے لکھا: - حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب با قاعدگی سے نماز تہجد ادا فرماتے تھے اور ہم نوجوانوں کے لئے اس سلسلہ میں بہترین نمونہ تھے۔جب میں لائل پور ( حال فیصل آباد ) میں مربی سلسلہ تھا تو آپ میرے پاس بھی تشریف لایا کرتے تھے۔ایک رات ہم آدھی رات سے بھی زائد عرصہ تک باتیں کرتے رہے پھر ہم سو گئے۔میں نے دل میں گمان کیا کہ آج مولانا صاحب نماز تہجد کے لئے نہیں اٹھ سکیں گے مگر جب تہجد کے وقت میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ آپ بڑی رقت سے نماز تہجد ادا کر رہے ہیں۔(الفضل ۲۵ جون ۱۹۷۷ء صفحه ۴) 0 ,, محترم چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المسال اول تحریک جدید رقم فرماتے ہیں :- جماعتوں کے دوروں کے دوران متعدد مرتبہ جب ہمیں کسی جماعت میں اکٹھے ایک کمرہ میں ہی رہائش کا موقعہ ملتا اور خاکسار نوافل کے لئے اٹھتا تو حضرت مولانا صاحب کو پہلے ہی نوافل میں گریہ وزاری کے ساتھ دعاؤں میں مصروف پاتا۔0 محترم مولانا صوفی محمد اسحاق صاحب مربی سلسلہ رقم فرماتے ہیں:۔حضرت مولانا موصوف ایک جید عالم ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت درجہ عبادت گزار اور دعا گو انسان تھے۔مجھے ایک سفر میں ان کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔یہ گوجر انوالا شہر کی بات ہے۔علی الصبح جب ہم نماز تہجد کے لئے بیدار ہوئے اور مولانا موصوف نے نماز نفل کی نیت کے ساتھ تکبیر تحریمہ پڑھی تو ذرا اونچی آواز میں ثناء سے پہلے بسم اللہ پڑھی جو غالبا مجھے یہ بتانے کے لئے پڑھی کہ ثناء سے پہلے بھی بسم اللہ پڑھنی چاہئے۔یہ حدیث نبوی کے عین مطابق ہے کہ کل امر ذى بال لم يبدا بسم الله فهو ابتر۔چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہوں اور ہر نماز میں خواہ وہ فرض کی ہو یا سنت یا نفل ا