حیاتِ خالد — Page 697
حیات خالد 686 گلدستۂ سیرت " مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ایک مرتبہ آپ کے والد مرحوم ( اللہ کی رحمت اُن پر ہو ) ڈھا کہ میں ضرورتِ الہام پر تقریر فرما رہے تھے۔دورانِ تقریر بڑے زور سے کہا کہ خدا زندہ ہے اور اب بھی بولتا ہے اور مجھ سے بھی بات کرتا ہے اور مجھ کو بھی الہام ہوتا ہے۔یہ کہتے ہوئے موصوف کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔وہ منظر آج تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔اللہ اللہ ! کس پائے کے بزرگ تھے۔کچھ وہی لوگ انداز ولگا سکتے ہوں گے جو اس کو چہ سے واقف ہوں گے۔میں تو صرف منہ تکتے رہ گیا۔اللہ کی بے شمار رحمتیں ہوں ایسے پاک وجود پر۔آمین 0 حضرت مولانا کے صاحبزادے مکرم عطاء الکریم صاحب شاہد تحریر کرتے ہیں :۔استاذی المکرم محترم مولانا غلام باری صاحب سیف مرحوم نے ایک مرتبہ خاکسار سے ذکر کیا کہ ایک شخص نے حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی سے پو چھا کہ اللہ تعالی کی طرف سے کثرت رویاء و کشوف کا سلسلہ آپ پر جاری ہے تو کیا جماعت میں کسی اور سے بھی اللہ تعالی کا ایسا سلوک ہے؟ اس پر حضرت راجیکی صاحب نے مکرم مولا نا ابو العطاء صاحب مرحوم کا نام لیا۔آپ مزید لکھتے ہیں :- ۱۹۷۴ء کے احمدیت کے خلاف یک طرفہ ہنگاموں اور فسادات کے دوران خاکسار معہ اہل و عیال کیمبل پور (حال اٹک) میں بطور مربی سلسلہ مقیم تھا۔دن بھر احمدی گھرانوں کے گھیراؤ اور خرید و فروخت میں بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رہتا تو رات کو شہر کی کسی ایک مسجد میں جلسہ اور اس کے دوران احمدیت کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے بعد نصف شب کے قریب اڑھائی تین صد مشتعل افراد حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ خلیفہ اسیح الثالث اور احمدیت کے خلاف غلیظ مخالفانہ نعرے لگاتے اور غلیظ گالیاں دیتے ہوئے مسجد احمد یہ اور اس سے ملحق مربی سلسلہ کی رہائش کو گھیر لیتے پولیس کے مستعد دستے بھی موقع پر موجود رہتے۔پتھراؤ سے حفظ ما تقدم کے طور پر ہم صحن میں سوئے ہوئے اپنے بچوں کو شدید گرمی کے باوجود کمروں میں لے جاتے۔صورتحال اتنی مخدوش ہو جاتی کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ممکن تھا۔حالات سے واقف احباب حیران ہو کر بسا اوقات پوچھتے کہ پھر آپ محفوظ کیسے رہے؟ یہ صورت حال کم و بیش تین ماہ تک حکومت کی سرپرستی میں جاری رہی اور ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو احمدیت کے خلاف نیشنل اسمبلی کی قرارداد کے ساتھ یہ سلسلہ اختتام کو پہنچا۔ان ایام کے دوران حضرت والد ماجد نے مجھے مسجد احمد یہ راولپنڈی میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان