حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 692 of 923

حیاتِ خالد — Page 692

حیات خالد 681 گلدستۂ سیرت ہوئی۔پھر ایک دن کہنے لگی کہ مجھے نیل پالش لادیں۔مجھ سے پو چھا کہ کیا ہوتی ہے۔اس پر میں نے بتایا کہ ناخنوں پر لگانے والی پالش ہوتی ہے۔چنانچہ وہ بھی لاکر دی۔بچی کی خواہش پوری ہو جانے سے بہت ہی خوش ہوئے۔ورنہ مولوی صاحب نے کبھی بھی گھر کی چیزیں نہیں خریدی تھیں اور نہ ہی سنگھار کی چیزیں وغیرہ کبھی خریدتے تھے۔بلکہ میری شادی پر بھی اپنے ایک دوست سے کہا کہ ایک جوڑا کپڑوں کا بنوا دو۔چنانچہ جب وہ ایک جوڑا بنوا کر گھر میں لائے تو اپنی والدہ صاحبہ کو دکھایا کہ یہ آپ کی بہو کے لئے بنوایا ہے۔وہ ریشمی جوڑا تھا۔وہ دیکھ کر آپ کی والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک گرم جوڑا بھی تو بنوانا تھا کیونکہ نومبر کا مہینہ تھا۔مولوی صاحب نے ہنس کر کہا کہ اس کا تو مجھے خیال ہی نہیں آیا۔چنانچہ پھر ایک جوڑا گرم بنوایا گیا۔مولوی صاحب بہت سادگی پسند تھے۔میری بری میں دو جوڑے کپڑے، ایک جوتی، رومال، جواب، ایک انگوٹھی اور چھ عدد چوڑیاں تھیں۔ان چیزوں پر گھر میں میرے والدین نے بھی کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں کیا۔سارے کام بڑی ہی سادگی سے ہوئے تھے۔بنگلہ دیش آپ کئی بار جماعتی دوروں پر جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ جب واپس آئے تو ایک بڑا سا کد دونما پھل لائے۔اس کو وہاں کھل کہتے تھے اور بتایا یہ پھل وہاں سے دوست مجھے لانے نہیں دیتے تھے۔کہتے تھے کہ منحوس ہے یہ نہ لے کر جائیں، راستے میں کوئی نقصان نہ ہو جائے۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ میں تو ضرور اس کو لے کر جاؤں گا اور یہ کفر توڑوں گا۔چنانچہ وہ صحیح سلامت آئے اور یہاں آ کر بنگالی لڑکوں کو بلایا اور کہا کہ اس کو کاٹو۔پھر ہم سب نے مل کر کھایا۔وہ واقعی بہت ہی مزیدار تھا۔ایک بار آپ ڈھاکہ سے واپس آئے تو ان کے ساتھ دولڑ کے تھے جن کی عمر قریباً دس سال ہوگی اور بتایا کہ ان کے والدین نے انہیں یہاں پڑھنے کے لئے بھجوایا ہے۔ان میں سے ایک لڑکا تو جلدی ہی واپس چلا گیا تھا۔اور دوسرا لڑکا جس کا نام انیس الرحمن تھا اُس نے پوری تعلیم جامعہ میں پڑھ کر مکمل کی اور مبلغ بن گیا۔اُس سے مولوی صاحب کو بہت پیار تھا۔کہیں تبلیغ کے لئے جاتے تو اکثر اس کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔برطانیہ میں بھی کئی سال مبلغ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔پھر واپس آکر ربوہ رہے پھر ملتان بھی رہے پھر ڈھا کہ چلے گئے۔وہاں جا کر وہ بیمار ہو گئے اور وہیں وفات پاگئے۔ان کی وفات کا سن کر مجھے بہت صدمہ ہوا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور اس کے بیوی بچوں کا خود محافظ ہو۔