حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 473 of 923

حیاتِ خالد — Page 473

حیات خالد 469 ماہنامہ الفرقان صاحب بٹ ایم اے کھڑے ہیں۔جو غالباً ٹرینگ کے لئے غیر مبائعین کی تبلیغی کلاس ( جو ان دنوں جاری تھی ) آئے ہوئے تھے۔بعد میں آپ غیر مباکین کی طرف سے جرمنی میں بطور مبلغ بھی بھجوائے گئے۔ان کے ساتھ پیغام صلح کے ایڈیٹر جناب مولانا دوست محمد صاحب بھی تھے۔سلام و دعا کے بعد مکرم بٹ صاحب نے پیغام صلح کے ایڈیٹر سے میرا تعارف یہ کہہ کر کروایا کہ یہ خواجہ خورشید احمد صاحب سیالکوٹی ہیں جو ” فاروق میں ہمارے خلاف اکثر مضامین لکھتے رہتے ہیں۔خیر دونوں صاحبان بڑی • محبت اور تپاک سے ملے۔چائے پلائی اور ہم جا کر ایڈیٹر صاحب پیغام صلح کے کمرے میں بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد ایڈیٹر صاحب موصوف یہ کہہ کر اُٹھ گئے کہ مجھے ایک ضروری کام ہے۔آپ میرے کمرے میں ہی تشریف رکھیں میں تھوڑی دیر کے بعد آؤں گا۔آپ کے دائیں بائیں پیغام صلح کے فائلز اور کتب موجود ہیں ان سے استفادہ کریں۔ایڈیٹر صاحب موصوف کے جانے کے بعد جناب ینی بٹ صاحب بھی یہ کہہ کر مجھے کلاس میں جانا ہے تشریف لے گئے اور میں اکیلا اس کمرے میں رہ گیا۔میں تو اپنے مقصد کے حصول میں مضطرب و بے قرار تھا۔تائید خداوندی معجزانہ طور پر میرے شامل حال ہوئی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا اور جو نہی میں نے اخبار پیغام صلح کے ایک فائل کو ہاتھ میں لیا اور کھولا تو سب سے پہلے جس صفحے پر میری نظر پڑی اس میں وہی نوٹ شائع شدہ میری آنکھوں کے سامنے موجود تھا جس کی تلاش کیلئے میں قادیان سے لاہور آیا تھا۔" یہ پیغام صلح کی جلد ۳ صفحه ۸۴ بابت ۳ / فروری ۱۹۱۶ ، صفحہ ۸ کالم نمبر ۲ پر جناب محمد جان صاحب آف وزیر آباد کی طرف سے شائع شدہ ایک نوٹ تھا جس کا عنوان تھا۔وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا میں نے یہ نوٹ بغور پڑھا اور پوری تسلی و اطمینان کے ساتھ کا غذ پر اسے نقل کیا۔جب میں یہ کام بحسن و خوبی مکمل کر چکا تو پیغام صلح کے ایڈیٹر اور جناب محمد یحیی بٹ صاحب ایم اے تشریف لائے۔میں نے خیال کیا کہ جس مقصد کی خاطر میں یہاں آیا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید سے انجام پا گیا ہے اب ان دوستوں سے رخصت ہونا چاہئے۔قادیان پہنچ کر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔میر ابشاش چہرہ دیکھتے ہی مولا نا سمجھ گئے کہ اللہ کی رحمت سے کام ہو گیا ہے۔چنانچہ ان کے چہرہ پر فورا خوشی و مسرت اور تسلی کے آثار ظاہر ہوئے۔میں نے ساری رام کہانی عرض کی اور اقتباس حضرت مولانا کی خدمت میں پیش کیا۔-