حیاتِ خالد — Page 472
حیات خالد 468 ماہنامہ الفرقان ایک روز نماز عصر کی ادائیگی کے بعد حضرت مولانا صاحب مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے کہ آپ نے احمد یہ چوک میں مجھے کھڑے پایا آپ فرمانے لگے مجھے آپ جیسے نوجوان کی اشد ضرورت تھی۔پہلے تو یہ بتائیں کہ خصوصی نمبر کیلئے مضمون کب تک بھجوائیں گے۔اس کے بعد فرمایا ایک کام کرتا ہے اور بہر صورت کرنا ہے۔کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کا یہ شاگر داور خادم ہمہ وقت تیار ہے۔آپ نے فرمایا کہ مرکزی لائبریری میں اخبار پیغام صلح لاہور کے ابتدائی فائلز مکمل صورت میں دستیاب نہیں ہیں۔مجھے ایک حوالہ کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لئے میں نے "فرقان" کے بعض صفحات وقف کر رکھے ہیں۔میں دہلی کے جلسہ پر جارہا ہوں۔واپسی پر یہ حوالہ مجھے ضرور مل جانا چاہئے تا کہ خاص نمبر کی بخیر و خوبی تکمیل ہو سکے۔آپ نے فرمایا کہ آج کل غیر مبائعین پیشگوئی پسر موعود کی مخالفت میں قسم قسم کے اعتراضات کر رہے ہیں۔تا کہ اس کے مصداق ہمارے پیارے امام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب قرار نہ پاسکیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیشگوئی کا ظہور ضروری نہیں کہ حضرت بانی سلسلہ کی صلبی اولاد میں سے ہو جب کہ اختلاف سے قبل یہ لوگ اپنے لٹریچر میں واضح طور پر تحریر کر چکے ہیں کہ پسر موعود حضور علیہ السلام کی اپنی اولاد میں سے ہوگا۔مولا نا فرمانے لگے کہ مجھے یاد پڑتا ہے بلکہ یقین ہے کہ اختلاف کے ابتدائی برسوں میں پیغام صلح کی کسی اشاعت میں ایک خاص غیر مبائع دوست نے تین کو چار کرنے والا حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ایک کشف سے پتہ چلتا ہے کہ پیشگوئی مصلح موعودؓ کے مصداق حضرت مرزا سلطان احمد صاحب ہوں گے اور تین کو چار کرنے والی خاص علامت انہی پر صادق آ رہی ہے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپ لاہور جا کر غیر مبائعین کی لائبریری سے یہ حوالہ تلاش کریں۔۱۹۱۵ء سے ۱۹۱۷ء تک کی پیغام صلح کی فائلوں میں سے یہ حوالہ مل سکتا ہے۔حضرت مولانا کے ارشاد کی تعمیل میں یہ عاجز اگلے روز لاہور روانہ ہو گیا۔احمد یہ بلڈنگز پہنچا خیال تھا کہ لائبریری انچارج سے مل کر حوالہ کی تلاش شروع کر دوں گا مگر وہاں جا کر فوری طور پر مایوسی ہوئی کہ لائبریری کے انچارج بیماری کی وجہ سے رخصت پر تھے۔لائبریری بند تھی۔اس سے حددرجہ فکر پیدا ہوا۔دعا کی طرف بے اختیار دل متوجہ ہوا۔ابھی میں دعا کر ہی رہا تھا کہ میرے کانوں میں ایک طرف سے آواز پڑی کوئی صاحب بلند آواز سے خواجہ صاحب کہہ کر مجھے بلا رہے تھے۔میں نے دیکھا کہ مکرم مولوی محمد یحیی