حیاتِ خالد — Page 474
حیات خالد 470 ماہنامہ الفرقان" مولانا کی خوشی کی کوئی انتہاء نہ تھی۔یوں لگتا تھا کہ کوئی بیش قیمت خزانہ مل گیا ہے۔بے حد خوشی سے مجھے دعائیں دینے لگے۔چنانچہ حضرت مولانا نے خاکسار کے مہیا کردہ حوالہ اور دیگر شواہد و دلائل کی بناء پر فرقان“ کے پسر موعود نمبر میں نہایت اعلی مضمون لکھا جس کی سرخی یہ تھی۔مصلح موعود کی سب سے بڑی خصوصیت تین کو چار کرنے والا موعود فرزند کون ہے؟ اہل پیغام کی ہدایت کیلئے نہایت عجیب حوالہ ان ہرسہ عنوانات کے ساتھ ماہ اپریل ۱۹۴۴ء میں صفحہ ۳۵ سے ۳۸ تک حضرت مولانا نے اپنا یہ مضمون شائع فرمایا۔جو بلا شبہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔0 الفرقان: چند مزید آراء مکرم عطاء الکریم شاہد صاحب لکھتے ہیں :- حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا ایک مضمون تل ابیب سے ربوہ تک کا جواب ماہنامہ الفرقان میں شائع ہوا اور اس دندان شکن، مسکت اور مؤثر جواب سے وقت کی ایک اہم ضرورت بطریق احسن پوری ہوئی۔بعد ازاں یہ مضمون ایک کتابچہ کی صورت میں طبع ہوا اور اس کی وسیع اشاعت ہوئی۔مضمون کی اشاعت کے کچھ عرصہ بعد جب خاکسار کور بوہ حضرت صاحبزادہ صاحب سے شرف ملاقات حاصل ہوا تو آپ کا شکریہ ادا کیا۔آپ نے بے تکلفانہ انکسار کے ساتھ فرمایا ” اس کا اصل کریڈٹ تو آپ کے والد صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے بار بار زور دے کر مجھ سے یہ مضمون لکھوایا ہے۔0 , محترم محمود مجیب اصغر صاحب رسالہ الفرقان کی ایک خاص خدمت کے ضمن میں فرماتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جن چار معتمدین کا انتخاب قومی اسمبلی میں اپنے ساتھ لے جانے کیلئے کیا ان میں حضرت مولانا بھی شامل تھے۔اپنے رسالہ الفرقان میں جس احسن رنگ میں ان حالات میں مولانا نے اسمبلی کی کاروائی کے چند پہلوؤں سے پردہ اٹھایا وہ مولانا کا ایک خاص صحافی کا رنامہ ہے۔جماعت کے معائد اور حزب اختلاف کے لیڈر مولانا مفتی محمود کا وہ بیان بھی