حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 277 of 923

حیاتِ خالد — Page 277

حیات خالد 276 سفر بلا دعربیہ کے مقاصد بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے بلا د عربیہ کے سفر کی جس ہمہ جہتی ، فکر اور توجہ سے تیاری کی وہ آپ کی شخصیت کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔آپ نے اولین وقت میں اپنے سفر کے مقاصد متعین فرمائے۔چنانچہ روانگی سے ۱۸ دن قبل آپ نے اپنی نوٹ بک میں مقاصد سفر و مشق کے زیر عنوان واضح طور پر تحریر فرمایا۔(۱) تبلیغ احمد بیت و اسلام۔(۲) عربی زبان کا سیکھنا۔(۳) نفس کی اصلاح اور مقام ولایت۔(۴) ملکی و تاریخی حالات کا مطالعہ۔(۵) حج کرنا۔(۶) حفظ قرآن پاک اللَّهُمُ الْهِمْنِي رُشْدِى وَأَعِذْنِي مِنْ خَرْنَفْسِي الراقم ابوالعطاء اللہ دتا جالندھری) سب سے اول آپ نے تبلیغ اسلام واحمدیت کو رکھا۔بلاشبہ ہر مبلغ کا اولین فریضہ تبلیغ ہے۔اسی مقصد اول کو اختیار کر کے دیگر مقاصد کا رخ متعین کیا جاسکتا ہے۔دوسرا مقصد عربی زبان کا سیکھنا تھا۔حضرت مولانا یوں تو عربی زبان جانتے تھے اور اس میں خاصی مہارت بھی رکھتے تھے۔مگر عربی زبان کا سیکھنا“ کے الفاظ درج کرنا آپ کی عاجزی و انکساری کو ظاہر کرتا ہے اور ساتھ ہی اس امر کو بھی واضح کرتا ہے کہ زبان کی اصل مہارت اہل زبان کے درمیان رہ کر ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔آپ نے یہ مقصد اس درجہ کامیابی سے حاصل کیا کہ آپ کو عربی زبان پر پوری طرح عبور حاصل ہو گیا۔آپ کی اس مہارت کا باب کے آخر میں تفصیلی ذکر کیا جائے گا۔خدا تعالی سے فضل و کرم سے آپ نے عربی زبان کی تحصیل میں ایسی اعلیٰ کا میابی حاصل کی کہ اپنے اور پرائے دنگ رہ گئے۔اور ہند و پاکستان میں آنے والے عربوں اور دیگر علماء کو آپ کی عربی زبان میں خصوصی مہارت کا اعتراف کرنا پڑا۔تیرا اہم مقصد یعنی نفس کی اصلاح و مقام ولایت بلاشبہ ہر مبلغ اور مربی سلسلہ کو یہ عظیم الشان مقصد ہر لمحہ اور ہر آن پیش نظر رکھنا چاہئے بلکہ اس میں ایسا کمال حاصل کرنا چاہئے کہ اعلیٰ روحانی مراتب کا حصول ممکن ہو سکے۔حضرت مولانا کو اعلیٰ روحانی منزل کے حصول کی کس درجہ تڑپ تھی وہ مقام ولایت" کو ایک مقصد ٹھہرانے سے بخوبی عیاں ہے۔دراصل آپ کی ساری زندگی ہی اس مقصد کے حصول کی خاطر ایک جہد مسلسل رہی اور آپ نے اولیاء اللہ کا جو مرتبہ پایا و وای لگن اور تڑپ کا نتیجہ تھا۔