حیاتِ خالد — Page 278
حیات خالد 277 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام چوتھا مقصد ملکی و تاریخی حالات کا مطالعہ تھا۔کامیاب مبلغ وہی ہے جو جہاں پر تبلیغ میں مصروف ہو وہاں کے ملکی و تاریخی حالات سے آگاہ ہو تا کہ گفتگو میں کسی بھی صورت حال میں مبلغ کو لاعلمی کی مخفت نہ اٹھانی پڑے۔مولا نا صرف رسمی مسائل سے آگاہ ہونا کافی نہ سمجھتے تھے بلکہ ملک کے عمومی حالات اور دیگر معلومات سے آگاہ ہو کر تبلیغ بھر پور انداز میں کرنا چاہتے تھے۔مقاصد سفر میں اس شق کی موجودگی آپ کی ذہانت اور گہری توجہ کی نشان دہی کرتی ہے۔پانچواں مقصد حج کرنا تھا۔ہر احمدی کے دل کی یہ آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے حج نصیب کرے۔عرب علاقوں میں آنے کے بعد حج کرنے کے مقصد کو سامنے رکھنا اور اس عظیم دینی رکن کو ہر لمحہ یا درکھنا آپ کی دلی تڑپ اور خواہش پر گواہ ہیں۔چھٹا مقصد حفظ قرآن پاک رکھا گیا۔قرآن کریم سے محبت حضرت مولانا کی زندگی کا نمایاں ترین باب ہے۔آپ نے ۲۷ سال کی عمر میں بھی اس دلی خواہش کو زندہ رکھا۔یہ سارے مقاصد مولانا کی پاک سرشت کے آئینہ دار ہیں۔حضرت مولانا نے بلاد عربیہ کے سفر پر روانگی سے قبل چند بزرگوں سے رہنمائی کا حصول بزرگان احمدیت سے خصوصی درخواست کر کے ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے تحریری ہدایات حاصل کیں۔یہ ایک غیر معمولی طریق ہے جس سے حضرت مولانا کو نہ صرف قیمتی رہنمائی میسر آگئی بلکہ ان بزرگوں کی دعائیں بھی مل گئیں جن بزرگوں کی ہدایات حضرت مولانا کے ذاتی ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ان میں سے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب حضرت میر قاسم علی صاحب اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال شامل ہیں۔حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے اپنی نصائح عربی میں تحریر فرما ئیں۔حضرت شاہ صاحب کی تحریر ملاحظہ فرمائیں۔حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کی نصائح بسم الله الرحمن الرحيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ (1) اُوْصِيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّ التَّقْوَى مَلَاكُ كُلِّ شَيْءٍ وَمَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا و يَرْزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ - وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا - وَمَنْ يَتَّقِ