حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 276 of 923

حیاتِ خالد — Page 276

حیات خالد 275 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام اللہ دتا سے ابوالعطاء حضرت مولانا کا نام ان کے والدین نے اللہ دتا رکھا تھا۔لیکن بعد ازاں آپ نے ابوالعطاء کی کنیت اختیار کر لی اور یہ نام اس قدر معروف ہوا کہ اللہ دتا اکثر کو یاد بھی نہیں۔حضرت مولانا کے سب سے بڑے صاحبزادے مکرم عطاء الرحمان طاہر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولانا نے ان کو بتایا کہ جب بلا د عر بیہ جانے کا معاملہ در پیش ہوا تو ایک دن حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا مولوی صاحب آپ کا نام ایسا ہے جو عربوں کو عجیب لگے گا۔بہتر ہو گا کہ آپ اللہ دتا کی بجائے عطاء اللہ یا کوئی اور نام رکھ لیں۔حضرت مولانا نے حضور سے سوچنے کیلئے مہلت مانگی گھر آئے تو مجھ پر نظر پڑی۔اس طرح سے آپ نے حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی اجازت سے میرے نام کی نسبت سے اپنی کنیت ابو العطاء رکھ لی۔بعد ازاں حضور انور نے ہی میرے متینوں چھوٹے بھائیوں کے نام عطاء الكريم ، عطاء الرحیم ، اور عطاء المجیب رکھے۔خاکسار راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ یہ کنیت حضرت مولانا نے اس سے پہلے بھی استعمال کی تھی چنانچہ الفضل ۱۲ را کتوبر ۱۹۲۸ء میں نوٹس بنام مولوی عبداللہ صاحب وکیل سری نگر میں آپ نے اس نوٹ کے نیچے اپنا نام اس طرح لکھا ہے :- ابو العطاء اللہ دتا جالندھری مولوی فاضل مبلغ جماعت احمدیہ قادیان دسمبر ۱۹۳۰ء میں آپ نے اپنی معرکتہ الآراء کتاب تصمیمات ربانیہ تحریر فرمائی اس میں بھی اپنا نام ابوالعطاء اللہ دتا جالندھری لکھا۔ان مثالوں کے علاوہ اور بھی متعدد جگہ آپ نے اسی طریق پر اپنا پورا نام استعمال فرمایا۔معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں کچھ عرصہ تک آپ نے اپنا نام ابوالعطاء اللہ دتا جالندھری“ لکھنا شروع کیا۔بعد میں صرف ابو العطاء جالندھری لکھنا شروع کیا جو بعد میں آپ کا مستقل طریق بن گیا اور دنیا آج آپ کو اسی نام سے یاد کرتی ہے۔مناظروں کا سلسلہ ختم کرنے کے بعد ہم دوبارہ ۱۹۳۱ء کے دور میں واپس جاتے ہیں۔حضرت مولانا کو ۱۹۳۱ء سے ۱۹۳۶ء تک قریباً ساڑھے چار سال فلسطین اور بلا دعر بیہ میں مبلغ اسلام و احمدیت کے طور پر گزارنے کا موقع ملا۔آپ ۱۳۔اگست ۱۹۳۱ء کو قادیان سے حیفا ( فلسطین) جانے کیلئے روانہ ہوئے اور ۲۳ فروری ۱۹۳۶ء کو قادیان دارالامان واپس آئے۔