حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 237 of 923

حیاتِ خالد — Page 237

حیات خالد 243 مناظرات کے میدان میں پیدا ہوا ہے ابھی یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ کونسی تعلیم قابل عمل ہے۔جب یہ مناظرہ ختم ہوا تو مسلمان بے حد خوش تھے انہوں نے حضرت مولانا صاحب کو گھیر لیا۔آپ کو ہار پہنائے گئے اور خوشی سے نعرے لگاتے ہوئے اور حضرت مولانا کے علم اور فن خطابت کی داد دیتے ہوئے ہال سے باہر آئے“۔جیسا پیچھے ذکر آچکا ہے حضرت مولانا مولوی فاضل کے موضع گوہد پور میں شاندار مناظرہ امتحان میں بفضلہ تعالیٰ یونیورسٹی میں اول آئے تھے۔آپ کے اس اعزاز کا ذکر ایک بار ایک مناظرہ میں بھی کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔موضع گوہد پور میں مناظرے کی شرائط میں مولوی فاضل ہونا شامل تھا۔اور مولوی فاضل پیش نہ کرنے پر ۲۰۰ روپیہ جرمانہ بھی مقرر تھا۔ذیل میں الفضل کی رپورٹ عنوان بالا کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔مورخه ۲ د کمبر ۱۹۴۴ء بروز ہفتہ جماعت احمد یہ کھو کھر اور اہل سنت و الجماعت گوہد پور کے درمیان موضع گوہد پور تھا نہ دھاری وال ضلع گورداسپور میں وفات مسیح ناصری علیہ السلام پر شاندار مناظرہ ہوا۔شرائط مناظرہ پہلے سے طے شدہ تھیں شرائط کے مطابق اہل سنت والجماعت کوئی ایسا مناظر پیش نہ کر سکے جو مولوی فاضل ہوتا اور اپنی سند دکھا کر مناظرہ کرنے کو تیار ہوتا۔متواتر تین گھنٹے کے مطالبہ کے بعد اہل سنت کو ۲۰۰ روپے ہرجانہ معاف کیا گیا اور ذیلدار علاقہ جو ایک معز ز سکھ ہیں کے کہنے اور سفارش کرنے پر مولوی عبد اللہ امرتسری اہلِ حدیث کو مناظرہ کی اجازت دی گئی۔ہماری طرف سے مناظر مولوی ابوالعطاء، صاحب جالندھری مولوی فاضل پرنسپل جامعہ احمدیہ تھے۔جنہوں نے شرائط کے مطابق اپنی سند اور تمغہ پنجاب یونیورسٹی میں اول رہنے کا دکھایا اور مناظرہ شروع ہوا۔پہلی تقریر مولوی عبداللہ نے کی جس کے جواب میں احمدی مناظر نے اس کی تقریر کے بودے دلائل کو توڑکر هَبَاءً مَنْشُورًا کر دیا۔مزید برآں اور دس مطالبات ایسے کئے کہ جن کا جواب اہلِ حدیث مناظر آخر وقت تک نہ دے سکے۔بلکہ اہلِ حدیث مناظر اپنی عادت کے مطابق اہل سنت والجماعت کے بزرگان سلف صالحین ، امام ابن قیم ابن عباس "علامہ ابن جریر و غیر ہم کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا رہا جس سے اہل سنت والجماعت کے افراد کو بہت تکلیف ہوئی۔اور اس کا اثر پبلک پہ بہت برا پڑا۔نیز اس کو قرآنی آیات غلط پڑھنے اور عربی عبارت اور الفاظ کو غلط بولنے کی وجہ سے بہت شرمندگی اُٹھانی پڑی۔مناظرہ ڈیڑھ بجے شروع ہو کر ساڑھے چار بجے ختم ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو اخلاقی اور علمی ہر لحاظ سے فتح عطا فقر مائی۔الحمد لله علی ذالک 7)