حیاتِ خالد — Page 236
حیات خالد 242 مناظرات کے میدان میں مذہب کے مناظر کیلئے ضروری ہے اور دیانتداری کا بھی تقاضہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کی جو خوبی بیان کرے اس کا حوالہ اپنی مذہبی کتاب سے دے اور میں اس کی پابندی کروں گا۔پھر آپ نے خدا تعالیٰ کے اسلامی تصور اور بعض اسلامی احکام کی حکمتیں بیان فرما ئیں۔آریہ سماجی مقرر نے حضرت مولانا کو زچ کرنے کے خیال سے اپنی تقریر میں محمدی بیگم کا مسئلہ چھیڑ دیا اور مسلمانوں کو ابھارتے ہوئے کہا کہ تمہارے ساتھ تو مرزا صاحب کا یہ سلوک رہا کیا تم لوگ انہیں اسلام کے نمائندہ کے طور پر مناظرے کی اجازت دیتے ہو ؟ انہوں نے حضرت مولانا کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پہلے تم اپنے مسلمان ہونے کا تو فیصلہ کر لو! اس وقت خدا تعالیٰ نے عجیب تائید و نصرت فرمائی۔حضرت مولانا صاحب کا چہرہ عجیب نورانی روشنی سے چمک رہا تھا۔آپ نے کہا آج اسلام اور آریہ سماج کا مناظرہ ہے ہم یہ ثابت کریں گے کہ اسلام کے نبی آنحضرت ﷺ دیگر تمام انبیاء پر فوقیت رکھتے ہیں اور آج صرف اسلامی تعلیم ہی قابل عمل ہے۔کوئی مذہب اس سے بہتر تعلیم پیش نہیں کر سکتا۔باقی رہا محمدی بیگم کا معاملہ وہ اس وقت زیر بحث نہیں ہے۔وہ ہم مسلمانوں کے درمیان ہے آریہ سماج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔آپ میری تقریر کا جواب دیں اور بے تعلق ہاتوں سے باز رہیں۔اس کے ساتھ ہی فضا مسلمانوں کے ابوالعطاء زندہ باد اور اسلام زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔اور آریہ سماجی مناظر کی پھوٹ ڈالنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔تعدد ازدواج پر جب آریہ سماجی مناظر نے اعتراض پیش کیا تو حضرت مولانا صاحب نے فرمایا اسلامی تعلیم میں زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی موجود ہے۔خانگی معاملات کی خرابی یا اولاد نہ ہونے کی صورت میں اسلام نے دوسری شادی، طلاق اور خلع کا حق رکھا ہے۔جب کہ آریہ سماج میں اس مسئلہ کا حل نیوگ ہے۔(یعنی نرینہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اپنی بیوی کو غیر مرد سے ہم صحبت ہونے کی اجازت دینا ) یہ غیرت کے منافی اور انسانی ضمیر کے خلاف ہے۔آج کی اس مجلس میں میرے محترم بھائی اور بہنیں ہندو اور مسلمان دونوں موجود ہیں ان میں سے ایسے مسلمان بھی ہوں گے جنہوں نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کی یا نباہ نہ ہونے کی وجہ سے طلاق دے دی یا کسی مسلمان عورت نے خاوند سے خلع حاصل کر کے علیحدگی اختیار کر لی۔مگر آریہ مذہب کا کوئی آدمی کھڑا ہو کر کہہ دے کہ اس نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی کو نیوگ کی اجازت دے دی۔کوئی عورت یہ کہدے کہ اس نے نیوگ کے ذریعہ غیر مرد سے اولاد حاصل کی ہے یا کوئی نوجوان یہ کہہ دے کہ وہ نیوگ کے نتیجے میں