حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 150 of 923

حیاتِ خالد — Page 150

حیات خالد 156 مناظرات کے میدان میں تجلیات الہیہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲) شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی پہلی جوابی تقریر کے بعد تین گھنٹہ تک مناظرہ رہا مگر آپ بار بار پہلی عبارتیں پڑھ دیتے اور جب کہا جاتا دوسرے مناظر کے جواب دو تو کھسیانے ہو کر کہنے والے کے پیچھے پڑ جاتے۔باوجودیکہ آپ اس مضمون میں غیر احمدیوں کی نمائندگی کر رہے تھے مگر غیر احمدی اصحاب نے ان کی کمزوری کو دیکھ کر ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ہاں محمود یوں کو گالیاں دینے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اعلان بیزاری کے باعث ایک مولوی محمد عبد اللہ صاحب غیر احمدی نے ان کا شکر یہ ادا کیا۔جس کے متعلق ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں۔آخر کل مجمع نے ہمارا شکر یہ ادا کیا اور کہا کہ آپ ہماری مسجد میں آکر وعظ کیا کریں۔یہ شکریہ کس بات پر تھا۔منشی محمد عبد اللہ صاحب موصوف ، ڈاکٹر محمد حسین شاہ ، کے حسب ذیل کلمات - میں مرزا کو کچھ نہیں مانتا وہ صرف ایک پیر ہے اس نے ایک تبلیغی جماعت قائم کی ہے جو مسلمان مرزا کو نہیں مانتا اور اس کو کافر کہتا ہے میں اس کو بھی مسلمان سمجھتا ہوں۔۔۔یہ مولوی محمد علی کی كتاب النوت فی الاسلام) پوتھی ہے میرے لئے حجت نہیں اور میں مولوی محمد علی صاحب کا پیرو نہیں“۔نقل کر کے لکھتا ہے:۔اختتام پر نشی محمد عبد اللہ صاحب میر منشی صدرا انجمن اسلامیہ کوہ مری (خیر سے خود ہی راقم ہیں) نے ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب کا ان کھری کھری باتوں کے اظہار پر شکر یہ ادا کیا۔(اخبار سیاست ۳ / ستمبر ۱۹۲۹ء) کیا اہل پیغام کیلئے یہ خوشی کا مقام ہے یا ڈوب مرنے کا؟ تف ہے اس شکر یہ پر جو اپنے پیشوا کی تک اور اپنے عقائد کو چھوڑ کر حاصل کیا جائے۔ہمیں اس غیور غیر مبالع کا بھی واقعہ یاد ہے جو محض ڈاکٹر صاحب کی شان مسیح موعود میں توہین آمیز الفاظ کے باعث رات کو سو نہ سکا بلکہ اس نے اس اضطراب میں کھانا بھی نہ کھایا اور علی الصبح ایک احمدی دوست سے ذکر کیا۔مجھے خود معلوم ہے کہ صبح ہم جس غیر مبائع سے پوچھتے کہ کیا تم وہی عقیدہ حضرت مسیح موعود کے متعلق رکھتے ہو جو ڈاکٹر صاحب نے رات بیان کیا تو وہ سرنگوں ہو کر کہتے نہ معلوم ڈاکٹر صاحب نے کن معنوں سے وہ الفاظ کہے تھے۔غرض یہ مباحثہ بخیر و خوبی ختم ہوا۔خاتمہ پر ایک غیر احمدی تقریر کیلئے کھڑا ہوا لوگوں میں شور پڑ گیا بعض نے کہا اس وقت اس تقریر کی کوئی ضرورت نہیں۔مالک مکان نے لوگوں سے کہا اب ہم مولود