حیاتِ خالد — Page 149
حیات خالد 155 مناظرات کے میدان میں زَيْتُونَةٍ فرمایا وہ نور مبارک ہے اور مبارک وہ ہوتا ہے جس کی برکت ختم نہ ہو اور قیامت تک جاری رہے۔(نقل مطابق اصل ) :اقول: آیت قرآنی پر جو ظلم آپ نے پڑھنے اور لکھنے میں اور پھر مطلب بگاڑنے میں کیا ہے اس کے متعلق کیا کہوں لیکن ہمیں مسلم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہیں۔اب فرمائیے۔آپ کی برکت کو کون جاری اور کون بند مانتا ہے۔نبوت ایک برکت ہے ہم مانتے ہیں یہ برکت حضور کی اطاعت سے ملتی ہے اور تا قیامت جاری ہے اس لئے حضور مبارک ہیں آپ کے معنوں کی رو سے تو حضور مبارک ہی نہیں رہتے۔قولہ: ” آپ منور سورج ہیں اب سورج کی موجودگی میں کسی اور روشنی کو ڈھونڈ نا یا کسی چراغ کو جلا نا سوائے ایسے لوگوں کے جن کے دماغ خراب ہو چکے ہوں اور کسی کا کام نہیں ہوسکتا۔اقول: سورج کے ساتھ چاند (اُمتی نبی ) تو قانون قدرت میں موجود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج منور ہونا ہی بتا تا ہے کہ ایسے نبی ہو سکتے ہیں جو کہیں۔اس نور پر فدا ہوں اس کا تمہ میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ور نہ ستاروں اور سورج میں باعتبار فیض رسانی کے کیا فرق ہوگا۔لیکن میں کہتا ہوں آپ لوگ جو منور سورج کی موجودگی میں مسیح موعود مہدی معہود مجدد مانتے ہیں اور پھر امیر قوم ایسے چراغ کو جلانا چاہتے ہیں تو کیا یہ درستی دماغ کی باتیں ہیں۔یا تو سب باتوں کو جواب دید ویا پھر امکان نبوت بھی مانو۔یادر ہے سورج غروب نہیں ہوتا۔زمین گردش کھا جاتی ہے۔ایسا ہی اب لوگ بگڑ گئے ان پر رات آگئی اس لئے چاند کی ضرورت ہے جو اسی سورج سے نور لیکر انہیں منور کرے اسی کو ہماری اصطلاح میں غیر تشریعی نبی اور اُمتی کہتے ہیں۔قولہ: ”حضرت اقدس کی تحریرات سے بھی نہ دکھا سکے کہ کہیں آپ نے غیر تشریعی نبوت کا اجراء مانا ہوا ہے۔اقول: اس وقت حقیقتہ الوحی وغیرہ سے متعدد حوالہ جات دیئے گئے تھے مگر معلوم ہوتا ہے حافظہ نباشد کا اثر ہے۔لیجئے صرف ایک حوالہ پڑھ لیجئے۔اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر