حیاتِ خالد — Page 151
حیات خالد 157 مناظرات کے میدان میں کرائیں گے (حالانکہ یہ سراسر غلط بات تھی) اس لئے دوسرے لوگ چلے جائیں جس پر ہم چلے آئے۔افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی دیانتداری نے اجازت نہ دی کہ وہ اس واقعہ کو تو جھوٹ کی گندگی سے پاک رکھتے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پہلے مناظرہ کا یہ اثر ہوا کہ دوسرے مضمون پر مباحثہ کرنے کی ڈاکٹر صاحب کو تاب نہ کھلا فرار رہی۔رقیہ بھیج کر بلایا گیا کہ دعوی نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقررہ موضوع پر بحث کیلئے میدان میں آئیں مگر آپ میں کچھ بھی سکت باقی نہ تھی بلکہ رقعہ لیجانے والے آدمیوں سے " بدسلوکی پر اتر آئے۔تعجب ہے ڈاکٹر صاحب نے اہل پیغام کا فرض قرار دیا ہے کہ علی الاعلان ان باہیوں کو پینج دیں کہ وہ حضرت کی تحریرات سے دکھا ئیں کہ کہاں کہاں انہوں نے نبی ہونے کا دعوی کیا ہے۔مگر ہمارے بار بار توجہ دلانے پر بھی آپ نے مہر خاموشی نہ توڑی۔دیگراں را نصیحت اسی کو کہتے ہیں۔اہل پیغام یا درکھیں اگر انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے اس نسخہ کو آزمانے کا قصد کیا تو وہ بہت بری طرح ہمیشہ کیلئے ہسپتال کی چار دیواری کے مہمان ہو جائیں گے۔اگر انہیں شوق ہو تو اس بات کا چیلنج دے کر دیکھ لیں۔ڈاکٹر صاحب نے بمشکل غیر احمدیوں کے سہارے سے تین گھنٹے پورے کئے اور اس مضمون کے آنے پر دم تو ڑ کر بیٹھ گئے اور میدان میں نہ نکلے۔مگر کمال ڈھٹائی سے ہمارے متعلق لکھتے ہیں۔دم دبا کر چلے گئے علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحب کی گالیاں طویل فہر ست چاہتی ہیں اسی لئے ان کو ترک کرتا ہوں۔خاکسار اللہ دتا جالندھری مولوی فاضل۔اخبار الفضل قادیان دار الامان ۱۵ اکتوبر ۱۹۲۹ صفحه ۶ تا ۸ ) سرینگر میں پیغامیوں سے اُمت محمدیہ میں نبوت پر پبلک مناظرہ اس مناظرہ کی روداد حضرت مولانا کے اپنے قلم سے ذیل میں درج ہے۔پیغامیوں کا چیلنج اہل پیام کا طریق ہے کہ جہلاء پرچی کے ذریعہ اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔سرینگر ا میں میر مدثر شاہ نے قادیانی فریق کو اپنے گھر میں بیٹھ کر چیلنج دے دیا۔مولانا مولوی محمد اسماعیل صاحب نے جماعت کی طرف سے اسے منظور کر کے تصفیہ شرائط کیلئے خط و کتابت شروع کر دی۔یکم ستمبر (۱۹۲۹ء) کو میں سری نگر پہنچا۔ہم نے چاہا کہ جلد تصفیہ ہو جائے باوجود یکہ ہم بارہا