حیات بشیر — Page 88
88 ذاتی مشاہدہ خود حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضور کے ان سفروں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”سلسلہ احمدیہ میں تحریر فرماتے ہیں: ان ایام میں حالات نے اس قدر جلدی جلدی پلٹا کھایا کہ جیسے ایک تیز رو روفلم کی تصویریں سنیما کے پردے پر دوڑتی ہیں اور خود حضرت خلیفہ اسیح کا یہ حال تھا اور یہ میں اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتا ہوں کیونکہ میں اکثر موقعوں پر آپ کے ساتھ رہا کہ آپ اس عرصہ میں گویا ہر وقت پا در رکاب تھے۔آج یہاں ہیں تو کل لاہور اور پرسوں دلی اور اترسوں وزیر آباد اور اگلے دن سیالکوٹ اور پھر راولپنڈی اور پھر ایبٹ آباد اور پھر اس سے پرے کشمیر کی سرحد پر اور پھر کہیں اور۔غرض ایک مسلسل حرکت تھی جس میں مختلف لوگوں سے ملنا۔کشمیر سے آنے والے لیڈروں کی رپورٹ سننا اور ہدایات دینا۔کشمیر کمیٹی کے جلسے کروانا۔پریس میں رپورٹیں بھجوانا ریاست اور گورنمنٹ کے افسروں سے ملاقات کرنا کرانا وغیرہ ہر قسم کا کام شامل تھا۔“ علاء حالات کشمیر پر ایک پمفلٹ انہی ایام میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے کشمیر کے حالات“ کے نام سے ایک ٹریکٹ شائع کیا۔یہ ٹریکٹ آجکل نایاب ہے مگر مکرم ملک فضل حسین صاحب نے اپنی کتاب "مسلمانان کشمیر اور ڈوگرہ راج“ کے صفحہ ۱۲۶ ، ۱۲۷ پر اس کا ایک طویل اقتباس درج کیا ہے۔سيرة خاتم النبيين حصہ دوم“ کے متعلق حضرت امیر کے متعلق حضرت امیر المؤمنین کی رائے اسی سال اگست ۳۱ ء میں آپ کی مشہور تصنیف سیرۃ خاتم سيرة خاتم النبیین کا حصہ دوم ۵۶۲ صفحات ر مشتمل شائع ہوا۔حضرت امیر المؤمنین خلیفه امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۲۷ دسمبر ۳۱ ء کو جلسہ سالانہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: پر میں نے اس کا بہت سا حصہ دیکھا ہے۔اس کے متعلق مشورے بھی دیے ہیں اور جہاں مجھے شدید اختلاف ہوا ہے وہاں میں نے اصلاح بھی کرائی ہے۔میں سمجھتا ہوں رسول کریم عمل کی جتنی سیر تیں شائع ہو چکی ہیں ان میں سے یہ بہترین کتاب ہے۔اردو سیرتوں سے ہی نہیں بلکہ بعض لحاظ سے عربی سیرتوں کے متعلق