حیات بشیر — Page 87
87 ”خدا کا شکر ہے کہ یہ خبر غلط نکلی۔اس سے پہلے اخبار ٹریبیون سے بھی معلوم ہوگیا تھا کہ غلط خبر محض کسی شخص کی شرارت کا نتیجہ تھی۔افسوس ہے کہ لوگ اس قسم کی کمینہ کاروائیوں سے دوسروں کو تکلیف میں ڈالتے ہیں۔“ ۱۸۱ تحفہ لارڈارون کے انگریزی ترجمہ کی نظر ثانی ہے۔درد نے ۱۸اپریل ۳۱ء وائسرائے ہند لارڈ اون کی خدمت میں حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا تحریر فرمودہ مضمون جو تحفہ لارڈارون“ کے نام سے چھپا ہوا وائسریگل لاج میں پیش کیا گیا۔اس مضمون کا انگریزی میں مولانا عبدالرحیم صاحب ترجمہ کیا تھا اور ترجمہ کی نظر ثانی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمائی۔۵۱۸۲ صدر انجمن احمدیہ کے قواعد وضوابط کی تشکیل صدر انجمن احمدیہ کے قواعد وضوابط ابھی تک یکجائی صورت میں جمع نہیں تھے۔صدر انجمن احمدیہ نے ان قواعد کو جمع کرنے کا کام ایک کمیٹی کے سپرد کیا جس کے ممبر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور حضرت مرزا محمد شفیع صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمد یہ تھے۔اس کمیٹی نے مئی ۱۹۳۱ء میں قواعد کا مجموعہ تیار کر کے انجمن میں اپنی رپورٹ پیش کر دی۔یہ مجموعہ مختلف مراحل میں سے گذرنے کے بعد ۱۹۳۸ء میں شائع ہوا۔آخری نظر ثانی بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ہی فرمائی۔۱۸۳ء آزادی کشمیر کیلئے جدو جہد جولائی ۳۱ء میں جب مسلمانان کشمیر کی آزادی کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہوئی اور حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آزادی کے لئے جدوجہد شروع فرمائی تو اس وقت حضور نے قادیان میں ایک پبلسٹی کمیٹی قائم کی جس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی شریک تھے اور پھر عملی طور پر حضور نے اپنے اکثر سفروں میں جو تحریک کشمیر کے سلسلہ میں کئے گئے آپ کو اپنے ساتھ رکھا۔چنانچہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس ۲۴ /اکتوبر ۳۱ ء کو لاہور میں ہؤا جس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی شریک ہوئے۔۱۸۵ نومبر ۳۱ ء میں حضور معاملات کشمیر کے سلسلہ میں لاہور تشریف لے گئے تو اس سفر میں بھی حضور آپ کو ساتھ لے گئے۔۸۲